امّت میں اختلاف پیدا کرنا بھی فساد ہیں قرآن حدیث اس لئے نہیں کے تم اللہ کے کلام سے اللہ رسول ﷺ کے کلام کو ردد کرو جہاں بھی قرآن حدیث میں اختلاف نظر اے اس کی حکمت سوچوں سمجھ میں نہ اے تو سوال کروں رب کے کلام سے نبی کے علم اختیار کی نفی نہیں ہوگی کیا رب تعالیٰ نے اپنے نبی کے ردد میں قرآن نازل کیا ہیں
امّت میں اختلاف پیدا کرنا بھی فساد ہیں قرآن حدیث اس لئے نہیں کے تم اللہ کے کلام سے اللہ رسول ﷺ کے کلام کو ردد کرو جہاں بھی قرآن حدیث میں اختلاف نظر اے اس کی حکمت سوچوں سمجھ میں نہ اے تو سوال کروں رب کے کلام سے نبی کے علم اختیار کی نفی نہیں ہوگی کیا رب تعالیٰ نے اپنے نبی کے ردد میں قرآن نازل کیا ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں ۔ سن لو: بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا) شعور نہیں ۔ *( سورۃ البقرہ آیت نمبر 11/12)*
تفسیر صراط الجنان
{ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ : زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں
اس طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کو پہچان سکیں۔
منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اور تہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہاسب فساد کی صورتیں ہیں۔
ترجمۂ کنز العرفان
اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں ۔ سن لو: بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا) شعور نہیں ۔ *( سورۃ البقرہ آیت نمبر 11/12)*
تفسیر صراط الجنان
{ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ : زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں
اس طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کو پہچان سکیں۔
منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اور تہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہاسب فساد کی صورتیں ہیں۔
Comments
Post a Comment