اچھی بدعت کی حدیث موجود ہونے کے باوجود ہر اچھی کام کو بری بدعت کہنا مسلمانوں پر شرک کا بہتان لگانے والے خود تو گمراہ ہیں دوسروں کو گمراہ اور گناہوں میں مبتلا کرنے کا انجام
اچھی بدعت کی حدیث موجود ہونے کے باوجود ہر اچھی کام کو بری بدعت کہنا مسلمانوں پر شرک کا بہتان لگانے والے خود تو گمراہ ہیں دوسروں کو گمراہ اور گناہوں میں مبتلا کرنے کا انجام: -*
ترجمۂ کنز العرفان
*اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے اور ضرور ان سے قیامت کے دن ان کے بہتانوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔*
اس آیت سے معلو م ہوا کہ جو خود گمراہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف بلاتا ہو تو اسے اپنی گمراہی کا گناہ اور اس کی سزا تو ملے گی البتہ اس کے ساتھ ان لوگوں کی گمراہی کا گناہ اور سزا بھی اسے ملے گی جنہیں اس نے گمراہ کیا تھا اور گمراہ ہونے والوں کے اپنے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔حضرت جریر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے اس کو اس کا ثواب ملے گا اور اس کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے اور ان عمل کرنے والوں کے اپنے ثواب میں بھی کمی نہ ہوگی اور جو شخص اسلام میں برا طریقہ جاری کرے اس پر اس کا گناہ ہوگا اور ان کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں اور ان عمل کرنے والوں کے اپنے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ آئے گی ۔ *(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ الخ، ص ۵۰۸ ، الحدیث: ۶۹(۱۰۱۷))*
اس سے ان لوگوں کو عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی بڑی ضرورت ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گناہوں میں مبتلا ہونے کے مَواقع فراہم کرتے اور انہیں طرح طرح کے دُنْیَوی مَنافع اور فوائد بتا کر گناہوں کی ترغیب دیتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔
ترجمۂ کنز العرفان
*اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے اور ضرور ان سے قیامت کے دن ان کے بہتانوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔*
اس آیت سے معلو م ہوا کہ جو خود گمراہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف بلاتا ہو تو اسے اپنی گمراہی کا گناہ اور اس کی سزا تو ملے گی البتہ اس کے ساتھ ان لوگوں کی گمراہی کا گناہ اور سزا بھی اسے ملے گی جنہیں اس نے گمراہ کیا تھا اور گمراہ ہونے والوں کے اپنے گناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی۔حضرت جریر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے اس کو اس کا ثواب ملے گا اور اس کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے اور ان عمل کرنے والوں کے اپنے ثواب میں بھی کمی نہ ہوگی اور جو شخص اسلام میں برا طریقہ جاری کرے اس پر اس کا گناہ ہوگا اور ان کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کریں اور ان عمل کرنے والوں کے اپنے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ آئے گی ۔ *(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ الخ، ص ۵۰۸ ، الحدیث: ۶۹(۱۰۱۷))*
اس سے ان لوگوں کو عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کی بڑی ضرورت ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گناہوں میں مبتلا ہونے کے مَواقع فراہم کرتے اور انہیں طرح طرح کے دُنْیَوی مَنافع اور فوائد بتا کر گناہوں کی ترغیب دیتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔
Comments
Post a Comment