جب قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کافروں کے ہر اعتراض کا جواب قرآن سے دیا جایگا پھر بد مذہب والے حضور ﷺ کی خاموشی پر لاعلمی کا اعتراض کیوں کرتے ہیں انشاءاللہ اس کا جواب بھی ہم قرآن سے دینگے
جب قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کافروں کے ہر اعتراض کا جواب قرآن سے دیا جایگا پھر بد مذہب والے حضور ﷺ کی خاموشی پر لاعلمی کا اعتراض کیوں کرتے ہیں انشاءاللہ اس کا جواب بھی ہم قرآن سے دینگے :-
ترجمۂ کنز العرفان
اور وہ آپ کے پاس کوئی بھی مثال لے آئیں ، ہم آپ کے پاس حق اور بہتر بیان لے آئیں گے۔وہ جنہیں ان کے چہروں کے بل جہنم کی طرف ہانکا جائے گا ان کا ٹھکانہ سب سے بدتر اور وہ سب سے زیادہ گم راہ ہیں ۔ *(سورۃ الفرقان آیت نمبر 33/34)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ : اور وہ آپ کے پاس کوئی مثال نہ لائیں گے۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، یہ مشرکین آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دین کے خلاف یا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر جو بھی اعتراض قائم کریں گے ہم اس کا انتہائی نفیس جواب دیں گے۔ *(صاوی، الفرقان، تحت الآیۃ : ۳۳ ، ۴ / ۱۴۳۶)*
{اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ : جن لوگوں کو ان کے چہروں کے بل ہانکا جائے گا۔} قیامت کے دن چہروں کے بل ہانکے جانے سے متعلق حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی روزِ قیامت تین طریقے پر اُٹھائے جائیں گے ایک گروہ سواریوں پر، ایک گروہ پیادہ پا اور ایک جماعت منہ کے بل گھسٹتی ہوئی۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، وہ منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ ارشاد فرمایا: ’’جس نے انہیں پاؤں پر چلایا ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ انہیں منہ کے بل چلائے۔ *(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ بنی اسرائیل، ۵ / ۹۶ ، الحدیث: ۳۱۵۳)*
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورا قدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بارگاہِ الہٰی میں وہ قُرب حاصل ہے کہ جب اعتراض حضور نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ہو تو اس کا جواب اللہ تعالٰی دیتا ہے۔
ترجمۂ کنز العرفان
اور وہ آپ کے پاس کوئی بھی مثال لے آئیں ، ہم آپ کے پاس حق اور بہتر بیان لے آئیں گے۔وہ جنہیں ان کے چہروں کے بل جہنم کی طرف ہانکا جائے گا ان کا ٹھکانہ سب سے بدتر اور وہ سب سے زیادہ گم راہ ہیں ۔ *(سورۃ الفرقان آیت نمبر 33/34)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ : اور وہ آپ کے پاس کوئی مثال نہ لائیں گے۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، یہ مشرکین آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دین کے خلاف یا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر جو بھی اعتراض قائم کریں گے ہم اس کا انتہائی نفیس جواب دیں گے۔ *(صاوی، الفرقان، تحت الآیۃ : ۳۳ ، ۴ / ۱۴۳۶)*
{اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ : جن لوگوں کو ان کے چہروں کے بل ہانکا جائے گا۔} قیامت کے دن چہروں کے بل ہانکے جانے سے متعلق حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی روزِ قیامت تین طریقے پر اُٹھائے جائیں گے ایک گروہ سواریوں پر، ایک گروہ پیادہ پا اور ایک جماعت منہ کے بل گھسٹتی ہوئی۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، وہ منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ ارشاد فرمایا: ’’جس نے انہیں پاؤں پر چلایا ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ انہیں منہ کے بل چلائے۔ *(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ بنی اسرائیل، ۵ / ۹۶ ، الحدیث: ۳۱۵۳)*
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورا قدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بارگاہِ الہٰی میں وہ قُرب حاصل ہے کہ جب اعتراض حضور نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ہو تو اس کا جواب اللہ تعالٰی دیتا ہے۔
Comments
Post a Comment