مشرکین تو مذاق اڑانے کے لئے قیامت کا سوال کرتے تھے آج بھی لوگ اپنے نبی ﷺ کے علم پر اعتراض کرکے مذاق اڑاتے ہیں علم غیب کا اظہار آپ کی خوایش کے مطابق نہیں ہوگا جیسے کافر امید رکھتے تھے کاش وہ تفسیر سے آیت کی حکمت سمجھتے
*مشرکین تو مذاق اڑانے کے لئے قیامت کا سوال کرتے تھے آج بھی لوگ اپنے نبی ﷺ کے علم پر اعتراض کرکے مذاق اڑاتے ہیں علم غیب کا اظہار آپ کی خوایش کے مطابق نہیں ہوگا جیسے کافر امید رکھتے تھے کاش وہ تفسیر سے آیت کی حکمت سمجھتے :-
ترجمۂ کنز العرفان
لوگ تم سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں ، تم فرماؤ: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔ *(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 63)*
تفسیر صراط الجنان
{ یَسْــٴَـلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ : لوگ تم سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں ۔} شانِ نزول:مشرکین تو مذاق اڑانے کے طور پر رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قیامت کا وقت دریافت کیا کرتے تھے گویا کہ ان کو بہت جلدی ہے اور یہودی قیامت کے بارے میں امتحان کے طور پر پوچھتے تھے کہ وہ کب قائم ہو گی ؟ کیونکہ توریت میں اس کا علم مخفی رکھا گیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں : قیامت قائم ہونے کے وقت کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور اس کے سوا کوئی اس پر مطلع نہیں اور اللہ تعالیٰ کا قیامت واقع ہونے کے علم کو مجھ سے مخفی رکھنا ایسی چیز نہیں جس سے میری نبوت باطل ہو جائے کیونکہ کسی شخص کے نبی ہونے کے لئے یہ شرط نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے بغیر غیب کا علم رکھتا ہو۔ *(خازن،الاحزاب، تحت الآیۃ:۶۳ ، ۳ / ۵۱۲ ، قرطبی، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶۳ ، ۷ / ۱۸۳ ، الجزء الرابع عشر، ملتقطاً)*
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ فرمانے کا حکم اس وقت دیا گیا جب ان سے قیامت کے بارے میں سوال ہوا تھا ورنہ ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب دنیا سے تشریف لے گئے اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام غیبوں کا علم عطا فرما دیا تھا اور ان میں سے ایک قیامت کا علم ہے لیکن انہیں یہ علم چھپانے کا حکم دیا گیا تھا (اس لئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے امت کو قیامت کا معین وقت نہیں بتایا۔) *(صاوی، الاحزاب، تحت الآیۃ:۶۳ ،۵ / ۱۶۵۸)*
{ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا : اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔} علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس آیت میں وقوعِ قیامت کی جلدی کرنے والوں کو ڈرانے اور امتحان کے طور پر سوال کرنے والوں کو خاموش کروانے اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ آپ (خود سے) کیا جانیں شاید قیامت کا واقع ہونا قریب ہو۔ *( مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶۳ ، ص ۹۵۱)*
*نوٹ ـ :* نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قیامت کا علم عطا فرما ئے جانے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے سورہِ اَعراف آیت نمبر 187 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔
ترجمۂ کنز العرفان
لوگ تم سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں ، تم فرماؤ: اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔ *(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 63)*
تفسیر صراط الجنان
{ یَسْــٴَـلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ : لوگ تم سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں ۔} شانِ نزول:مشرکین تو مذاق اڑانے کے طور پر رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قیامت کا وقت دریافت کیا کرتے تھے گویا کہ ان کو بہت جلدی ہے اور یہودی قیامت کے بارے میں امتحان کے طور پر پوچھتے تھے کہ وہ کب قائم ہو گی ؟ کیونکہ توریت میں اس کا علم مخفی رکھا گیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں : قیامت قائم ہونے کے وقت کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور اس کے سوا کوئی اس پر مطلع نہیں اور اللہ تعالیٰ کا قیامت واقع ہونے کے علم کو مجھ سے مخفی رکھنا ایسی چیز نہیں جس سے میری نبوت باطل ہو جائے کیونکہ کسی شخص کے نبی ہونے کے لئے یہ شرط نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے بغیر غیب کا علم رکھتا ہو۔ *(خازن،الاحزاب، تحت الآیۃ:۶۳ ، ۳ / ۵۱۲ ، قرطبی، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶۳ ، ۷ / ۱۸۳ ، الجزء الرابع عشر، ملتقطاً)*
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ فرمانے کا حکم اس وقت دیا گیا جب ان سے قیامت کے بارے میں سوال ہوا تھا ورنہ ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب دنیا سے تشریف لے گئے اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام غیبوں کا علم عطا فرما دیا تھا اور ان میں سے ایک قیامت کا علم ہے لیکن انہیں یہ علم چھپانے کا حکم دیا گیا تھا (اس لئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے امت کو قیامت کا معین وقت نہیں بتایا۔) *(صاوی، الاحزاب، تحت الآیۃ:۶۳ ،۵ / ۱۶۵۸)*
{ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا : اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔} علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اس آیت میں وقوعِ قیامت کی جلدی کرنے والوں کو ڈرانے اور امتحان کے طور پر سوال کرنے والوں کو خاموش کروانے اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ آپ (خود سے) کیا جانیں شاید قیامت کا واقع ہونا قریب ہو۔ *( مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶۳ ، ص ۹۵۱)*
*نوٹ ـ :* نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قیامت کا علم عطا فرما ئے جانے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے سورہِ اَعراف آیت نمبر 187 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔
Comments
Post a Comment