حضور ﷺ اپنی پُشت سے لوگوں کے دل کی کفیت بھی دیکھتے
*حضور ﷺ اپنی پُشت سے لوگوں کے دل کی کفیت بھی دیکھتے :-
ترجمۂ کنز العرفان
جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو۔ اور نمازیوں میں تمہارے دورہ فرمانے کو (دیکھتا ہے۔) بیشک وہی سننے والاجاننے والا ہے۔ *(سورۃ الشعراء آیت نمبر 218/220)*
تفسیر صراط الجنان
(1) اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نمازوں میں آپ کی آنکھ کی گردش کو دیکھتا ہے کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے آگے اور پیچھے سے یکساں ملاحظہ فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث میں ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! مجھ پر تمہارا خشوع اوررکوع مخفی نہیں ، میں تمہیں اپنے پس ِپُشت دیکھتا ہوں۔ *(بخاری، کتاب الصلاۃ، باب عظۃ الامام الناس فی اتمام الصلاۃ الخ، ۱ / ۱۶۱ ، الحدیث: ۴۱۸)*
(2) بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ساجدین سے مومنین مراد ہیں اور معنی یہ ہیں کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا کے زمانے سے لے کر حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت آمنہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا تک مومنین کی پشتوں اور رحموں میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دورے کو ملاحظہ فرماتاہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تمام آباء واَجداد سب کے سب مومن ہیں۔ *(مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۹ ، ص ۸۳۴ ، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۹ ، ۳/ ۳۹۸ ، جمل، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۹ ، ۵ / ۴۱۳ ، ملتقطاً)*
{ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ : بیشک وہی سننے والا ہے۔} یعنی بے شک اللہ تعالٰی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی گفتگو سننے والا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عمل اور نیت کو جاننے والاہے۔ *(مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۰ ، ص ۸۳۴)*
ترجمۂ کنز العرفان
جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو۔ اور نمازیوں میں تمہارے دورہ فرمانے کو (دیکھتا ہے۔) بیشک وہی سننے والاجاننے والا ہے۔ *(سورۃ الشعراء آیت نمبر 218/220)*
تفسیر صراط الجنان
(1) اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نمازوں میں آپ کی آنکھ کی گردش کو دیکھتا ہے کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے آگے اور پیچھے سے یکساں ملاحظہ فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث میں ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! مجھ پر تمہارا خشوع اوررکوع مخفی نہیں ، میں تمہیں اپنے پس ِپُشت دیکھتا ہوں۔ *(بخاری، کتاب الصلاۃ، باب عظۃ الامام الناس فی اتمام الصلاۃ الخ، ۱ / ۱۶۱ ، الحدیث: ۴۱۸)*
(2) بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ساجدین سے مومنین مراد ہیں اور معنی یہ ہیں کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت حوا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا کے زمانے سے لے کر حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت آمنہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا تک مومنین کی پشتوں اور رحموں میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دورے کو ملاحظہ فرماتاہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے تمام آباء واَجداد سب کے سب مومن ہیں۔ *(مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۹ ، ص ۸۳۴ ، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۹ ، ۳/ ۳۹۸ ، جمل، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۹ ، ۵ / ۴۱۳ ، ملتقطاً)*
{ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ : بیشک وہی سننے والا ہے۔} یعنی بے شک اللہ تعالٰی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی گفتگو سننے والا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عمل اور نیت کو جاننے والاہے۔ *(مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۰ ، ص ۸۳۴)*
Comments
Post a Comment