حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا رومیوں کا غالب ہونے کا وقت بتانا قرآن کی اس آیت میں ذکر ہیں قرآن کو سمجھنے والے غورفکر کرکے جواب دو آپ کے جواب کا انتظار رہیگا

*حضرت ابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا رومیوں کا غالب ہونے کا وقت بتانا قرآن کی اس آیت میں ذکر ہیں قرآن کو سمجھنے  والے غورفکر کرکے جواب دو  آپ کے جواب کا انتظار رہیگا :-
 ترجمۂ کنز العرفان   
الم۔ رومی مغلوب ہوگئے۔قریب کی زمین میں اور وہ اپنی شکست کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔ چند سالوں میں ۔ پہلے اور بعد حکم الله ہی کا ہے اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے۔ الله کی مدد سے۔وہ جس کی چاہے مدد کرتا ہے اور وہی غالب، مہربان ہے۔ *(سورۃ الروم آیت نمبر 1/5)*
جب یہ آیتیں  نازل ہوئیں تو انہیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ     نے کفارِ مکہ میں  جا کر اعلان کر دیا کہ اے مکہ والو! تم اس وقت کی جنگ کے نتیجے سے خوش مت ہو ،ہمیں ہمارے نبی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے   رومیوں کے غلبے کی خبر دے دی ہے، خدا کی قسم! رومی ضرور فارس والوں  پر غلبہ پائیں  گے۔ اُبی بن خلف کافر یہ سن کر آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے سامنے کھڑا ہوگیا ،پھر اس کے اور آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کے درمیان سو سو اونٹ کی شرط لگ گئی کہ اگر نو سال میں رومی فارس والوں پر غالب نہ آئے تو حضرت ابو بکر صدیق     رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  اُبی بن خلف کو سو اونٹ دیں  گے اور اگر رومی غالب آجائیں    تو اُبی بن خلف حضرت ابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو سو اونٹ دے گا۔ جب یہ شرط لگی اس وقت تک جوئے کی حرمت نازل نہ ہوئی تھی۔سات سال کے بعد اس خبر کی سچائی ظاہر ہوئی اور صلحِ حُدَیْبِیَہ یا جنگ ِ بدر کے دن رومی فارس والوں پر غالب آگئے ، رومیوں نے مدائن میں  اپنے گھوڑے باندھے اور عراق میں  رومیہ نامی ایک شہر کی بنیاد رکھی ۔ حضرت ابوبکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  نے شرط کے اُونٹ اُبی بن خلف کی اولاد سے وصول کرلئے کیونکہ وہ اس عرصے میں  مرچکا تھا اور سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرت ابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو حکم دیا کہ شرط کے مال کو صدقہ کردیں ۔  *(خازن، الروم، تحت الآیۃ:۳،   ۳ /   ۴۵۷  -  ۴۵۸  ، مدارک، الروم، تحت الآیۃ:۴، ص  ۹۰۱ ، ملتقطاً)* 
 *رومیوں کے غالب آنے کی مدت مُبْہَم رکھنے کی حکمت:-*
 یہاں  آیت میں  رومیوں  کے غالب آنے کی مُعَیَّن مدت ذکرنہیں  کی گئی،اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ  احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’آیت میں   رومیوں کے غالب آنے کی مدت کو اس لئے مُبْہَم رکھا گیا تاکہ کفار  ہر وقت رعب میں   رہیں اور ان کے دلوں  میں  خوف بیٹھا رہے۔ *(صاوی، الروم، تحت الآیۃ:  ۴ ،  ۴  /  ۱۵۷۵ )*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے