صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عظمت و شان اللہ تعالیٰ نے تمام صحابۂ سے جنت کا وعدہ کیا ہیں ان سے جو خطا ہونے ولی ہیں ان کو نظر انداز کرتے ہوے دیوبندی فرقے میں صحابہ کو کافر کہنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا وہ قرآن کی تفسیر تو پڑھتے نہیں اور جو امیر معاویہ پر لعنت کرتے ہیں وہ بھی گمراہ ہیں
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عظمت و شان اللہ تعالیٰ نے تمام صحابۂ سے جنت کا وعدہ کیا ہیں ان سے جو خطا ہونے ولی ہیں ان کو نظر انداز کرتے ہوے دیوبندی فرقے میں صحابہ کو کافر کہنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا وہ قرآن کی تفسیر تو پڑھتے نہیں اور جو امیر معاویہ پر لعنت کرتے ہیں وہ بھی گمراہ ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک جن کے لیے ہمارا بھلائی کا وعدہ پہلے سے ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ *(سورۃ انبیاء آیت نمبر 101)*
تفسیر مدارک میں ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے یہ آیت ’’ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰى ‘‘پڑھ کر فرمایا ’’میں انہیں میں سے ہوں اور حضرت ابوبکر ، عمر، عثمان ،طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی انہیں میں سے ہیں ۔ *(مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۱۰۱، ص۷۲۷ )*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ عَزِیْز جَبَّار وَاحِد قَہَّارجَلَّ وَعَلَا نے صحابۂ کرام کو دو قسم کیا، ایک وہ کہ قبلِ فتحِ مکہ جنہوں نے راہِ خدا میں خرچ وقتال کیا، دوسرے وہ جنہوں نے بعد ِفتح ،پھر فرما دیا کہ دونوں فریق سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خوب خبر ہے کہ تم کیا کیا کرنے والے ہو، با اینہمہ اس نے تم سب سے حُسنٰی کا وعدہ فرمایا۔ یہاں قرآنِ عظیم نے ان دریدہ دہنوں ، بیباکوں ، بے ادب، ناپاکوں کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابۂ کرام کے افعال سے اُن پر طعن چاہتے ہیں ، وہ بشرطِ صحت اللہ عَزَّوَجَلَّ کو معلوم تھے ،پھر بھی اُن سب سے حُسنیٰ کا وعدہ فرمایا ، تو اب جو مُعترض ہے اللہ واحدقہار پر معترض ہے، جنت ومدارجِ عالیہ اس معترض کے ہاتھ میں نہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاتھ ہیں ، معترض اپنا سر کھاتا رہے گا اور اللہ نے جو حُسنیٰ کا وعدہ اُن سے فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزاپائے گا، وہ آ یۂ کریمہ یہ ہے: ’’ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ‘‘ *(حدید :۱۰)*
اے محبوب کے صحابیو!تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ وقتال کیا، وہ رُتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیں ، اور دونوں فریق سے اللّٰہ نے حُسنیٰ کا وعدہ کرلیا، اور اللّٰہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو۔
اب جن کے لیے اللّٰہ کا وعدہ حُسنیٰ کا ہولیا اُن کا حال بھی قرآن عظیم سے سنئے: ’’ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ ( ۱۰۱) لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ -وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ( ۱۰۲) لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕ-هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ *(انبیاء : ۱۰۱-۱۰۳)*
بے شک جن کے لیے ہمارا وعدہ حُسنیٰ کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں ، اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔وہ بڑی گھبراہٹ قیامت کی ہلچل انہیں غم نہ دے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔
یہ ہے جمیع صحابۂ کرام سیّدُ الانام عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے قرآن کریم کی شہادت۔ امیرالمومنین ، مولی المسلمین ، علی مرتضیٰ مشکل کشا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم قسمِ اول میں ہیں جن کو فرمایا ’’ اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً ‘‘ اُن کے مرتبے قسمِ دوم والوں سے بڑے ہیں ۔ اور امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ قسمِ دوم میں ہیں ، اور حُسنیٰ کا وعدہ اور یہ تمام بشارتیں سب کوشامل۔ *( فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۲۷۹ - ۲۸۰)*
{ اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ : وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔} علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں جہنم کے عذاب اور اس کی اَذِیّت و تکلیف سے دور رکھا جائے گا کیونکہ جب مومنین جہنم کے اوپر سے گزریں گے تو جہنم کی آگ ٹھندی ہونے لگے گی اور وہ کہے گی اے مومن !جلدی سے گزر جا کیونکہ تیرے نورنے میرے شعلے کو بجھا دیا ہے۔لہٰذا ایمان والوں کا جہنم کے اوپر سے گزرنا اس آیت کے مُنافی نہیں ہے۔ *(صاوی، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۱۰۱، ۴ / ۱۳۲۰)*
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک جن کے لیے ہمارا بھلائی کا وعدہ پہلے سے ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ *(سورۃ انبیاء آیت نمبر 101)*
تفسیر مدارک میں ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے یہ آیت ’’ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰى ‘‘پڑھ کر فرمایا ’’میں انہیں میں سے ہوں اور حضرت ابوبکر ، عمر، عثمان ،طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی انہیں میں سے ہیں ۔ *(مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۱۰۱، ص۷۲۷ )*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ عَزِیْز جَبَّار وَاحِد قَہَّارجَلَّ وَعَلَا نے صحابۂ کرام کو دو قسم کیا، ایک وہ کہ قبلِ فتحِ مکہ جنہوں نے راہِ خدا میں خرچ وقتال کیا، دوسرے وہ جنہوں نے بعد ِفتح ،پھر فرما دیا کہ دونوں فریق سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خوب خبر ہے کہ تم کیا کیا کرنے والے ہو، با اینہمہ اس نے تم سب سے حُسنٰی کا وعدہ فرمایا۔ یہاں قرآنِ عظیم نے ان دریدہ دہنوں ، بیباکوں ، بے ادب، ناپاکوں کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابۂ کرام کے افعال سے اُن پر طعن چاہتے ہیں ، وہ بشرطِ صحت اللہ عَزَّوَجَلَّ کو معلوم تھے ،پھر بھی اُن سب سے حُسنیٰ کا وعدہ فرمایا ، تو اب جو مُعترض ہے اللہ واحدقہار پر معترض ہے، جنت ومدارجِ عالیہ اس معترض کے ہاتھ میں نہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاتھ ہیں ، معترض اپنا سر کھاتا رہے گا اور اللہ نے جو حُسنیٰ کا وعدہ اُن سے فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزاپائے گا، وہ آ یۂ کریمہ یہ ہے: ’’ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ‘‘ *(حدید :۱۰)*
اے محبوب کے صحابیو!تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ وقتال کیا، وہ رُتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیں ، اور دونوں فریق سے اللّٰہ نے حُسنیٰ کا وعدہ کرلیا، اور اللّٰہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو۔
اب جن کے لیے اللّٰہ کا وعدہ حُسنیٰ کا ہولیا اُن کا حال بھی قرآن عظیم سے سنئے: ’’ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ ( ۱۰۱) لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ -وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ( ۱۰۲) لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕ-هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ *(انبیاء : ۱۰۱-۱۰۳)*
بے شک جن کے لیے ہمارا وعدہ حُسنیٰ کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں ، اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔وہ بڑی گھبراہٹ قیامت کی ہلچل انہیں غم نہ دے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔
یہ ہے جمیع صحابۂ کرام سیّدُ الانام عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے قرآن کریم کی شہادت۔ امیرالمومنین ، مولی المسلمین ، علی مرتضیٰ مشکل کشا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم قسمِ اول میں ہیں جن کو فرمایا ’’ اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً ‘‘ اُن کے مرتبے قسمِ دوم والوں سے بڑے ہیں ۔ اور امیر معاویہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ قسمِ دوم میں ہیں ، اور حُسنیٰ کا وعدہ اور یہ تمام بشارتیں سب کوشامل۔ *( فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۲۷۹ - ۲۸۰)*
{ اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ : وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔} علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں جہنم کے عذاب اور اس کی اَذِیّت و تکلیف سے دور رکھا جائے گا کیونکہ جب مومنین جہنم کے اوپر سے گزریں گے تو جہنم کی آگ ٹھندی ہونے لگے گی اور وہ کہے گی اے مومن !جلدی سے گزر جا کیونکہ تیرے نورنے میرے شعلے کو بجھا دیا ہے۔لہٰذا ایمان والوں کا جہنم کے اوپر سے گزرنا اس آیت کے مُنافی نہیں ہے۔ *(صاوی، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۱۰۱، ۴ / ۱۳۲۰)*
Comments
Post a Comment