چیونٹی اگر انسان کے کان میں بھی کہے تو وہ نہیں سنن سکتا ہیں مگر انبیاء کرام کی یہ شان ہیں دور نذدیک کی آواز ایک برابر ہیں

چیونٹی اگر انسان کے کان میں بھی کہے تو وہ نہیں سنن سکتا ہیں مگر انبیاء کرام کی یہ شان ہیں دور نذدیک کی آواز ایک برابر ہیں :-*
  ترجمۂ کنز العرفان           
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے توایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ، کہیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں تمہیں کچل نہ ڈالیں ۔ *(سورۃ النمل آیت نمبر 18)*
 تفسیر صراط الجنان             
{ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ  : یہاں  تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے۔}       اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  اور چیونٹی کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اپنے لشکروں  کے ساتھ طائف یا شام میں اس وادی پر سے گزرے جہاں  چیونٹیاں  بکثرت تھیں ۔جب چیونٹیوں  کی ملکہ نے حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کے لشکر کو دیکھا تووہ کہنے لگی:اے چیونٹیو! اپنے گھروں  میں  داخل ہوجاؤ، کہیں  حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور ان کے لشکر بے خبری میں تمہیں  کچل نہ ڈالیں۔ملکہ نے یہ اس لئے کہا کہ وہ جانتی تھی کہ حضرت سلیمان       عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام نبی ہیں ، عدل کرنے والے ہیں ، جبر اور زیادتی آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کی شان نہیں  ہے۔ اس لئے اگر آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کے لشکر سے چیونٹیاں  کچلی جائیں  گی تو بے خبری ہی میں  کچلی جائیں  گی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ گزرتے ہوئے اس طرف توجہ نہ کریں ۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چیونٹی کی یہ بات تین میل سے سن لی اور ہوا ہر شخص کا کلام آپ کی مبارک سماعت تک پہنچاتی تھی جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام چیونٹیوں  کی وادی کے قریب پہنچے تو آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  نے اپنے لشکر وں  کو ٹھہرنے کا حکم دیا یہاں  تک کہ چیونٹیاں  اپنے گھروں  میں  داخل ہوگئیں ۔ حضرت سلیمان  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کا یہ سفر ہوا پر نہ تھا بلکہ پیدل اور سواریوں  پر تھا۔ *( جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۱۸، ص ۳۱۸ ، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۱۸ ، ۳/ ۴۰۵ ، ملتقطاً )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-