رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مالکیت امّت کی جان اور مال سب کے مالک اور مدد گار ہیں جو نہ مانے وہی گمراہ بد دین ہیں
*رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مالکیت امّت کی جان اور مال سب کے مالک اور مدد گار ہیں جو نہ مانے وہی گمراہ بد دین ہیں :-
ترجمۂ کنز العرفان
یہ نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور مومنوں اور مہاجروں سے زیادہ اللہ کی کتاب میں رشتے دار ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو۔ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ *(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 6)*
تفسیر صراط الجنان
{ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ : یہ نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں ۔} اَولیٰ کے معنی ہیں زیادہ مالک، زیادہ قریب، زیادہ حقدار، یہاں تینوں معنی درست ہیں اور اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ دنیا اور دین کے تمام اُمور میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم مسلمانوں پر نافذ اور آپ کی اطاعت واجب ہے اور آپ کے حکم کے مقابلے میں نفس کی خواہش کو ترک کر دینا واجب ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مومنین پر اُن کی جانوں سے زیادہ نرمی، رحمت اور لطف و کرم فرماتے ہیں اور انہیں سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں ،جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ‘‘ *( توبہ: ۱۲۸ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں ۔ *( خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶ ، ۳ / ۴۸۳ ، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶ ، ص ۹۳۲ ، ملتقطاً )*
اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میری مثال اورلوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی،جب اس نے اپنے ماحول کوروشن کیا تو پروانے اور آگ میں گرنے والے کیڑے اس میں گرنا شروع ہو گئے تو وہ آدمی انہیں آگ سے ہٹانے لگا لیکن وہ اس پر غالب آ کر آگ میں ہی گرتے رہے، پس میں کمر سے پکڑ کر تمہیں آگ سے کھینچ رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں گرتے ہی جا رہے ہو۔ *(بخاری، کتاب الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصی، ۴ / ۲۴۲ ، الحدیث: ۶۴۸۳ )*
امام مجاہد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’ تمام انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اپنی امت کے باپ ہوتے ہیں اور اسی رشتہ سے مسلمان آپس میں بھائی کہلاتے ہیں کہ وہ اپنے نبی کی دینی اولاد ہیں ۔ *( مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶ ، ص ۹۳۲ )*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’سچی کامل مالکیت وہ ہے کہ جان وجسم سب کو محیط اور جن وبشر سب کوشامل ہے، یعنی اَوْلٰی بِالتَّصَرُّفْ (تصرف کرنے کا ایسا مالک) ہونا کہ اس کے حضور کسی کو اپنی جان کابھی اصلاً اختیارنہ ہو۔ یہ مالکیت ِحقہ، صادقہ، محیط، شاملہ، تامہ، کاملہ حضور پُرنور مَالِکُ النَّاس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کو بخلافت ِکبرٰیٔ حضرت کبریا عَزَّوَعَلَا تمام جہاں پرحاصل ہے۔ قَالَ اللہ تَعَالٰی: ’’ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ ‘‘
نبی زیادہ والی ومالک ومختارہے، تمام اہلِ ایمان کاخود ان کی جانوں سے۔
وَقَالَ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی (اور اللہ تَبَارَک وَتَعَالٰی نے فرمایا:) ’’ وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا ‘‘ *( احزاب: ۳۶ )*
*ترجمۂکنز العرفان* : نہیں پہنچتا کسی مسلمان مرد نہ کسی مسلمان عورت کو جب حکم کردیں اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا کہ انہیں کچھ اختیاررہے اپنی جانوں کا، اور جوحکم نہ مانے اللہ ورسول کاتو وہ صریح گمراہ ہوا۔
رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’ اَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ ‘‘ میں زیادہ والی و مالک ومختارہوں ، تمام اہلِ ایمان کاخود ان کی جانوں سے *( بخاری، کتاب الکفالۃ، باب الدَّین، ۲ / ۷۷ ، الحدیث: ۲۲۹۸ )* ۔ *( فتاویٰ رضویہ، رسالہ: النور والضیاء فی احکام بعض الاسماء ، ۲۴ / ۷۰۳ - ۷۰۴ )*
ترجمۂ کنز العرفان
یہ نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور مومنوں اور مہاجروں سے زیادہ اللہ کی کتاب میں رشتے دار ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرو۔ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ *(سورۃ الاحزاب آیت نمبر 6)*
تفسیر صراط الجنان
{ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ : یہ نبی مسلمانوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں ۔} اَولیٰ کے معنی ہیں زیادہ مالک، زیادہ قریب، زیادہ حقدار، یہاں تینوں معنی درست ہیں اور اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ دنیا اور دین کے تمام اُمور میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم مسلمانوں پر نافذ اور آپ کی اطاعت واجب ہے اور آپ کے حکم کے مقابلے میں نفس کی خواہش کو ترک کر دینا واجب ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مومنین پر اُن کی جانوں سے زیادہ نرمی، رحمت اور لطف و کرم فرماتے ہیں اور انہیں سب سے زیادہ نفع پہنچانے والے ہیں ،جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ‘‘ *( توبہ: ۱۲۸ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں ۔ *( خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶ ، ۳ / ۴۸۳ ، مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶ ، ص ۹۳۲ ، ملتقطاً )*
اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میری مثال اورلوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی،جب اس نے اپنے ماحول کوروشن کیا تو پروانے اور آگ میں گرنے والے کیڑے اس میں گرنا شروع ہو گئے تو وہ آدمی انہیں آگ سے ہٹانے لگا لیکن وہ اس پر غالب آ کر آگ میں ہی گرتے رہے، پس میں کمر سے پکڑ کر تمہیں آگ سے کھینچ رہا ہوں اور تم ہو کہ اس میں گرتے ہی جا رہے ہو۔ *(بخاری، کتاب الرقاق، باب الانتہاء عن المعاصی، ۴ / ۲۴۲ ، الحدیث: ۶۴۸۳ )*
امام مجاہد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ’’ تمام انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اپنی امت کے باپ ہوتے ہیں اور اسی رشتہ سے مسلمان آپس میں بھائی کہلاتے ہیں کہ وہ اپنے نبی کی دینی اولاد ہیں ۔ *( مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۶ ، ص ۹۳۲ )*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’سچی کامل مالکیت وہ ہے کہ جان وجسم سب کو محیط اور جن وبشر سب کوشامل ہے، یعنی اَوْلٰی بِالتَّصَرُّفْ (تصرف کرنے کا ایسا مالک) ہونا کہ اس کے حضور کسی کو اپنی جان کابھی اصلاً اختیارنہ ہو۔ یہ مالکیت ِحقہ، صادقہ، محیط، شاملہ، تامہ، کاملہ حضور پُرنور مَالِکُ النَّاس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کو بخلافت ِکبرٰیٔ حضرت کبریا عَزَّوَعَلَا تمام جہاں پرحاصل ہے۔ قَالَ اللہ تَعَالٰی: ’’ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ ‘‘
نبی زیادہ والی ومالک ومختارہے، تمام اہلِ ایمان کاخود ان کی جانوں سے۔
وَقَالَ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی (اور اللہ تَبَارَک وَتَعَالٰی نے فرمایا:) ’’ وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا ‘‘ *( احزاب: ۳۶ )*
*ترجمۂکنز العرفان* : نہیں پہنچتا کسی مسلمان مرد نہ کسی مسلمان عورت کو جب حکم کردیں اللہ اور اس کے رسول کسی بات کا کہ انہیں کچھ اختیاررہے اپنی جانوں کا، اور جوحکم نہ مانے اللہ ورسول کاتو وہ صریح گمراہ ہوا۔
رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ’’ اَنَا اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ ‘‘ میں زیادہ والی و مالک ومختارہوں ، تمام اہلِ ایمان کاخود ان کی جانوں سے *( بخاری، کتاب الکفالۃ، باب الدَّین، ۲ / ۷۷ ، الحدیث: ۲۲۹۸ )* ۔ *( فتاویٰ رضویہ، رسالہ: النور والضیاء فی احکام بعض الاسماء ، ۲۴ / ۷۰۳ - ۷۰۴ )*
Comments
Post a Comment