اولیا اللہ‎ نفس و شیطان سے افضل جہاد کرتے ہیں اس لئے وہ بھی سہید کی طرح اپنی قبر میں زندہ رہتے ہیں تم بھی نفس و شیطان کے خلاف جہاد کرو حضور ﷺ تمہارے عمال پر گواہ ہیں ان کو اپنے عمل سے تکلیف نہ دوں

*اولیا اللہ‎ نفس و شیطان سے افضل جہاد کرتے ہیں اس لئے وہ بھی سہید کی طرح اپنی قبر میں زندہ رہتے ہیں تم بھی نفس و شیطان کے خلاف جہاد کرو حضور ﷺ تمہارے عمال پر گواہ ہیں ان کو اپنے عمل سے تکلیف نہ دوں :-   
ترجمۂ کنز العرفان         
اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا اس (کی راہ) میں جہاد کرنے کا حق ہے۔اس نے تمہیں منتخب فرمایا اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی جیسے تمہارے باپ ابراہیم کے دین (میں کوئی تنگی نہ تھی)۔ اس نے پہلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلمان رکھا ہے تاکہ رسول تم پرنگہبان و گواہ ہو اور تم دوسرے لوگوں پر گواہ ہوجاؤ تو نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لو، وہ تمہارا دوست ہے تو کیا ہی اچھا دوست اور کیا ہی اچھا مددگارہے۔ *(سورۃ الحج آیت نمبر 78)*
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمنوں  کے ساتھ ساتھ نفس،خواہشات اور شیطان کے خلاف جہاد کرنا بھی داخل ہے اور شیطان کی انسان دشمنی اور اس کے مقصد سے خبردار کرتے ہوئے  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :  اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّاؕ- اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ *(فاطر :۶ )*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان* :  بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو، وہ تو اپنے گروہ کو اسی لیے بلاتا ہے تاکہ وہ بھی دوزخیوں  میں  سے ہوجائیں ۔   
اور نفسانی خواہشات کی پیروی سے رکنے والے کے بارے میں  ارشاد فرماتا ہے: وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ (۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰى *(نازعات :۴۰،۴۱ )*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان* :   اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑےہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔تو بیشک جنت ہی ٹھکانا ہے۔   
حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ، کچھ لوگ جہاد سے واپسی پر حضور اقدس  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں  حاضر ہو ئے تو آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’تم آگئے، خوش آمدید! اور تم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آئے ہو۔انہوں  نے عرض کی:بڑا جہاد کیا ہے؟ارشاد فرمایا’’ بندے کا اپنی خواہشوں  سے جہاد کرنا۔     *(  الزہد الکبیر للبیہقی، فصل فی ترک الدنیا ومخالفۃ النفس، ص۱۶۵، الحدیث: ۳۷۳ )*   
 حضرت فضالہ بن عبید  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں  اپنے نفس سے لڑتا ہے۔  *(مسند امام احمد، مسند فضالۃ بن عبید الانصاری رضی اللہ عنہ ، ۹ / ۲۴۹، الحدیث: ۲۴۰۱۳ )*   
حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : انسان کے دشمن تین ہیں : (1) اس کی دنیا۔ (2) شیطان۔(3)نفس۔ لہٰذا دنیا سے بے رغبتی اختیار کر کے اس سے بچو،شیطان کی مخالفت کر کے اس سے محفوظ رہو اور خواہشات کو چھوڑ دینے کے ذریعے نفس سے حفاظت میں  رہو۔  *( احیاء علوم الدین، کتاب ریاضۃ النفس وتہذیب الاخلاق، بیان شواہد النقل من ارباب البصائر۔الخ ، ۳ / ۸۱ )*   
اللہ اللہ  کے   نبی  سے   
فریاد ہے نفس کی بدی سے   
دن بھر کھیلوں  میں  خاک اڑائی   
لاج آئی نہ ذرّوں  کی ہنسی سے   
شب بھر سونے ہی سے غرض تھی   
تاروں  نے ہزار دانت پیسے   
ایمان پہ مَوت بہتر او نفس   
تیری ناپاک زندگی سے

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے