حضور ﷺ کا یہ کہنا میں نے کبھی حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ایسا وہی کہہ سکتا ہیں جس نے اس کی پوری زندگی کا مشاہدہ کیا ہو فرشتوں کا خوفِ خدا
حضور ﷺ کا یہ کہنا میں نے کبھی حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ایسا وہی کہہ سکتا ہیں جس نے اس کی پوری زندگی کا مشاہدہ کیا ہو فرشتوں کا خوفِ خدا: -*
فرشتے اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر، اس کی پکڑ اور اس کے قہر سے کس قدر خوف زدہ رہتے ہیں اس سلسلے میں 4 اَحادیث ملاحظہ ہوں
(1) حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میں معراج کی رات فرشتوں کے پاس سے گزرا تو حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اس چادر کی طرح تھے جو اونٹ کی پیٹھ پر ڈالی جاتی ہے۔ *(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ عبد الرحمٰن ، ۳ / ۳۰۹، الحدیث : ۴۶۷۹)*
(2) ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں روتے ہوئے حاضر ہوئے ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم کیوں رو رہے ہو؟ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی :جب سے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے تب سے میری آنکھ اس خوف کی وجہ سے خشک نہیں ہوئی کہ کہیں مجھ سے اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی ہو جائے اور میں جہنم میں ڈال دیا جاؤں ۔ *( شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔ الخ ، ۱ / ۵۲۱، الحدیث: ۹۱۵)*
(3) حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سے دریافت کیا کہ میں نے کبھی حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے تب سے حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام نہیں ہنسے۔ *(مسند امام احمد، مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، ۴ / ۴۴۷، الحدیث: ۱۳۳۴۲)*
(4) نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کے پہلو اس کے خوف کی وجہ سے لرزتے رہتے ہیں ، ان کی آنکھ سے گرنے والے ہر آنسو سے ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے ،جو کھڑے ہوکر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی پاکی بیان کرنا شروع کر دیتا ہے۔ *( شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ، ۱ / ۵۲۱، الحدیث: ۹۱۴ )*
فرشتے گناہوں سے معصوم ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے اس قدر ڈرتے ہیں تو ہرنیک اور گناہگار مسلمان کو بھی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرے اور اس کی پکڑ،گرفت اور قہر سے خوف کھائے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
فرشتے اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر، اس کی پکڑ اور اس کے قہر سے کس قدر خوف زدہ رہتے ہیں اس سلسلے میں 4 اَحادیث ملاحظہ ہوں
(1) حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’میں معراج کی رات فرشتوں کے پاس سے گزرا تو حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے اس چادر کی طرح تھے جو اونٹ کی پیٹھ پر ڈالی جاتی ہے۔ *(معجم الاوسط، باب العین، من اسمہ عبد الرحمٰن ، ۳ / ۳۰۹، الحدیث : ۴۶۷۹)*
(2) ایک روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں روتے ہوئے حاضر ہوئے ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم کیوں رو رہے ہو؟ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی :جب سے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے تب سے میری آنکھ اس خوف کی وجہ سے خشک نہیں ہوئی کہ کہیں مجھ سے اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی ہو جائے اور میں جہنم میں ڈال دیا جاؤں ۔ *( شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔ الخ ، ۱ / ۵۲۱، الحدیث: ۹۱۵)*
(3) حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سے دریافت کیا کہ میں نے کبھی حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے تب سے حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام نہیں ہنسے۔ *(مسند امام احمد، مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، ۴ / ۴۴۷، الحدیث: ۱۳۳۴۲)*
(4) نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کے پہلو اس کے خوف کی وجہ سے لرزتے رہتے ہیں ، ان کی آنکھ سے گرنے والے ہر آنسو سے ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے ،جو کھڑے ہوکر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی پاکی بیان کرنا شروع کر دیتا ہے۔ *( شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ، ۱ / ۵۲۱، الحدیث: ۹۱۴ )*
فرشتے گناہوں سے معصوم ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے اس قدر ڈرتے ہیں تو ہرنیک اور گناہگار مسلمان کو بھی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرے اور اس کی پکڑ،گرفت اور قہر سے خوف کھائے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
Comments
Post a Comment