آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے بھی حضور ﷺ نبی تھے یہ خود حضور ﷺ کا فرمان ہیں اور اعلان نبوت سے پہلے بحیرا راہب اور پتھر بھی آپ کو نبی مانتے تھے مگر آج کے گمراہ فرقے والے آخری نبی تو مانتے ہیں پہلے نبی نہیں مانتے اور 40 سال کی عمر میں نبوت ملنا مانتے ہیں کیا وہ اعلان نبوت اور تخلیق نبوت کے فرق کو نہیں سمجھتے
آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے بھی حضور ﷺ نبی تھے یہ خود حضور ﷺ کا فرمان ہیں اور اعلان نبوت سے پہلے بحیرا راہب اور پتھر بھی آپ کو نبی مانتے تھے مگر آج کے گمراہ فرقے والے آخری نبی تو مانتے ہیں پہلے نبی نہیں مانتے اور 40 سال کی عمر میں نبوت ملنا مانتے ہیں کیا وہ اعلان نبوت اور تخلیق نبوت کے فرق کو نہیں سمجھتے :-*
ترجمۂ کنز العرفان
*اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی لیکن تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے تو تم ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا۔*
یاد رہے کہ اس آیت سے یہ ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وحی نازل ہونے سے پہلے اپنی نبوت سے خبردار نہیں تھے کیونکہ یہاں ظاہری اَسباب کے لحاظ سے وحی نازل ہونے کی امید کی نفی ہے اور کثیر دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ وحی نازل ہونے سے پہلے بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی نبوت کی خبر رکھتے تھے ،۔جیسے بحیرا راہب نے بچپن ہی میں آپ کی نبوت کی خبر دے دی تھی،نسطورا راہب نے جوانی میں آپ کی نبوت کی خبر دی اور حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری بِعثَت (اعلانِ نبوت) سے پہلے مجھ پر سلام عرض کیا کرتا تھا اور میں اب بھی اسے پہچانتا ہوں ۔ *( مسلم، کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ، ص ۱۲۴۹، الحدیث: ۲(۲۲۷۷))*
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی؟ ارشاد فرمایا: ’’جس وقت حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روح اور جسم کے درمیان تھے۔ *(ترمذی ، کتاب المناقب عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم باب ما جاء فی فضل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۵ / ۳۵۱، الحدیث: ۳۶۲۹)*
ان تمام اَحادیث میں اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے سے پہلے اپنے نبی ہونے کا علم تھا،لہٰذا یہ نظرِیّہ ہر گز درست نہیں کہ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے کے بعد اپنے نبی ہونے کا علم ہوا تھا۔
ترجمۂ کنز العرفان
*اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی لیکن تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے تو تم ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا۔*
یاد رہے کہ اس آیت سے یہ ہر گز ثابت نہیں ہوتا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وحی نازل ہونے سے پہلے اپنی نبوت سے خبردار نہیں تھے کیونکہ یہاں ظاہری اَسباب کے لحاظ سے وحی نازل ہونے کی امید کی نفی ہے اور کثیر دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ وحی نازل ہونے سے پہلے بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی نبوت کی خبر رکھتے تھے ،۔جیسے بحیرا راہب نے بچپن ہی میں آپ کی نبوت کی خبر دے دی تھی،نسطورا راہب نے جوانی میں آپ کی نبوت کی خبر دی اور حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو میری بِعثَت (اعلانِ نبوت) سے پہلے مجھ پر سلام عرض کیا کرتا تھا اور میں اب بھی اسے پہچانتا ہوں ۔ *( مسلم، کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ، ص ۱۲۴۹، الحدیث: ۲(۲۲۷۷))*
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی؟ ارشاد فرمایا: ’’جس وقت حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روح اور جسم کے درمیان تھے۔ *(ترمذی ، کتاب المناقب عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم باب ما جاء فی فضل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۵ / ۳۵۱، الحدیث: ۳۶۲۹)*
ان تمام اَحادیث میں اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے سے پہلے اپنے نبی ہونے کا علم تھا،لہٰذا یہ نظرِیّہ ہر گز درست نہیں کہ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے کے بعد اپنے نبی ہونے کا علم ہوا تھا۔
Comments
Post a Comment