یارسولَ اللہ کہنے والوں کے لئے مل کر کھانے کے 3 فضائل اہلے حدیث فرقے نے اپنی مسجدوں میں جہاں بھی یا محمّد لکھا تھا وہاں سے یا کو نکال دیا کیا ہزاروں حدیث میں سے بھی یارسولَ اللہ کو نکال دینگے تمہارے دل میں اگر نبی ﷺ کی محبت ہو تو ان لوگوں کو اپنے گھرو سے نکل دیا کرو
یارسولَ اللہ کہنے والوں کے لئے مل کر کھانے کے 3 فضائل اہلے حدیث فرقے نے اپنی مسجدوں میں جہاں بھی یا محمّد لکھا تھا وہاں سے یا کو نکال دیا کیا ہزاروں حدیث میں سے بھی یارسولَ اللہ کو نکال دینگے تمہارے دل میں اگر نبی ﷺ کی محبت ہو تو ان لوگوں کو اپنے گھرو سے نکل دیا کرو :-*
(1) حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مل کر کھاؤاورالگ الگ نہ کھاؤ کیونکہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔‘‘ *( ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ، باب الاجتماع علی الطعام ، ۴ / ۲۱ ، الحدیث: ۳۲۸۷ )*
(2) ایک مرتبہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے بارگاۂ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ہم کھانا تو کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔ ارشاد فرمایا: ’’تم الگ الگ کھاتے ہو گے۔‘‘ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: جی ہاں !رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم مل بیٹھ کر کھانا کھایا کرو اور کھاتے وقت بِسْمِ اللہ پڑھ لیا کرو تمہارے لئے کھانے میں برکت دی جائے گی۔‘‘ *(ابو داؤد، کتاب الاطعمۃ، باب فی الاجتماع علی الطعام ، ۳ / ۴۸۶ ، الحدیث: ۳۷۶۴ )*
(3) حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند وہ کھانا ہے جسے کھانے والے زیادہ ہوں ۔‘‘ *( شعب الایمان،الثامن والستون من شعب الایمان۔۔۔الخ، فصل فی التکلّف للضیف عند القدرۃ علیہ ، ۷ / ۹۸ ، الحدیث: ۹۶۲۰ )*
{ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا : پھر جب گھروں میں داخل ہو۔} ارشاد فرمایا کہ پھر جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، یہ ملتے وقت کی اچھی دعا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے مبارک پاکیزہ کلمہ ہے۔ *( خازن، النور، تحت الآیۃ : ۶۱ ، ۳ / ۳۶۴ )*
*گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے سے متعلق دو شرعی مسائل:-*
یہاں گھر میں داخل ہوتے وقت اہلِ خانہ کو سلام کرنے سے متعلق دو شرعی مسائل ملاحظہ ہوں :
(1) جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے اہلِ خانہ کو سلام کرے اور ان لوگوں کو جو مکان میں ہوں بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں ۔
( 2 ) اگر خالی مکان میں داخل ہو جہاں کوئی نہیں ہے تو کہے: ’’ اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہ الصَّالِحِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلٰی اَہْلِ الْبَیْتِ وَرَحْمَۃُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗ ‘‘حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ مکان سے یہاں مسجدیں مُراد ہیں ۔ امام نخعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جب مسجد میں کوئی نہ ہو تو کہے ’’ اَلسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ ۔ *(الشفا، القسم الثانی، الباب الرابع فی حکم الصلاۃ علیہ، فصل فی الموطن التی یستحبّ فیہا الصلاۃ والسلام۔ الخ، ص ۶۷ ، الجزء الثانی )*
ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے شفا شریف کی شرح میں لکھا کہ خالی مکان میں سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر سلام عرض کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام کے گھروں میں روحِ اقدس جلوہ فرما ہوتی ہے۔ *( شرح الشفا، القسم الثانی، الباب الرابع فی حکم الصلاۃ علیہ والتسلیم، فصل فی الموطن التی یستحبّ فیہا الصلاۃ والسلام ، ۲ / ۱۱۸ )*
(1) حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مل کر کھاؤاورالگ الگ نہ کھاؤ کیونکہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔‘‘ *( ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ، باب الاجتماع علی الطعام ، ۴ / ۲۱ ، الحدیث: ۳۲۸۷ )*
(2) ایک مرتبہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے بارگاۂ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ہم کھانا تو کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔ ارشاد فرمایا: ’’تم الگ الگ کھاتے ہو گے۔‘‘ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: جی ہاں !رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم مل بیٹھ کر کھانا کھایا کرو اور کھاتے وقت بِسْمِ اللہ پڑھ لیا کرو تمہارے لئے کھانے میں برکت دی جائے گی۔‘‘ *(ابو داؤد، کتاب الاطعمۃ، باب فی الاجتماع علی الطعام ، ۳ / ۴۸۶ ، الحدیث: ۳۷۶۴ )*
(3) حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند وہ کھانا ہے جسے کھانے والے زیادہ ہوں ۔‘‘ *( شعب الایمان،الثامن والستون من شعب الایمان۔۔۔الخ، فصل فی التکلّف للضیف عند القدرۃ علیہ ، ۷ / ۹۸ ، الحدیث: ۹۶۲۰ )*
{ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا : پھر جب گھروں میں داخل ہو۔} ارشاد فرمایا کہ پھر جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو، یہ ملتے وقت کی اچھی دعا ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس سے مبارک پاکیزہ کلمہ ہے۔ *( خازن، النور، تحت الآیۃ : ۶۱ ، ۳ / ۳۶۴ )*
*گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے سے متعلق دو شرعی مسائل:-*
یہاں گھر میں داخل ہوتے وقت اہلِ خانہ کو سلام کرنے سے متعلق دو شرعی مسائل ملاحظہ ہوں :
(1) جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے اہلِ خانہ کو سلام کرے اور ان لوگوں کو جو مکان میں ہوں بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں ۔
( 2 ) اگر خالی مکان میں داخل ہو جہاں کوئی نہیں ہے تو کہے: ’’ اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہ الصَّالِحِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلٰی اَہْلِ الْبَیْتِ وَرَحْمَۃُ اللہ وَبَرَکَاتُہٗ ‘‘حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ مکان سے یہاں مسجدیں مُراد ہیں ۔ امام نخعی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جب مسجد میں کوئی نہ ہو تو کہے ’’ اَلسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ ۔ *(الشفا، القسم الثانی، الباب الرابع فی حکم الصلاۃ علیہ، فصل فی الموطن التی یستحبّ فیہا الصلاۃ والسلام۔ الخ، ص ۶۷ ، الجزء الثانی )*
ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے شفا شریف کی شرح میں لکھا کہ خالی مکان میں سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر سلام عرض کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام کے گھروں میں روحِ اقدس جلوہ فرما ہوتی ہے۔ *( شرح الشفا، القسم الثانی، الباب الرابع فی حکم الصلاۃ علیہ والتسلیم، فصل فی الموطن التی یستحبّ فیہا الصلاۃ والسلام ، ۲ / ۱۱۸ )*
Comments
Post a Comment