اہلے حدیث فقہ حنفی پر اعترض کرتے ہیں لواطت پر حد کیوں نہیں حد مخصوص سزا کو کہتے ہیں جب حدیث میں مختلف سزا کا ذکر ہیں تو وہ حد نہیں ہوگی حاکم اسلام کو حق ہوگا حدیث میں بیان کسی بھی سزا کا انتخاب کریں

اہلے حدیث فقہ حنفی پر اعترض کرتے ہیں لواطت پر حد کیوں نہیں حد مخصوص سزا کو کہتے ہیں جب حدیث میں مختلف سزا کا ذکر ہیں تو وہ حد نہیں ہوگی حاکم  اسلام کو حق ہوگا حدیث میں بیان کسی بھی سزا کا انتخاب کریں :-*     
(1) بد فعلی یعنی لواطت کبیرہ گناہوں میں سے ہے جسے  اللہ  تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ایسا شخص مستحقِ لعنت ہے اور بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے محروم رہے گا ۔ چنانچہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاقول ذکر کرتے ہوئے  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ ( ۱۶۵) وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْؕ- بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ           *(الشعراء : ۱۶۵ - ۱۶۶)*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان* :کیاتم لوگوں میں سے مَردوں سے بدفعلی کرتے ہو۔اور اپنی بیویوں کو چھوڑتے ہو جو تمہارے لیے تمہارے  رب نے بنائی ہیں بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو ۔   
اور حضرت جابر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا’’  مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ ڈر قومِ لوط کے سے عمل کا ہے ۔ *(ترمذی، کتاب الحدود، باب ما جاء فی حدّ اللوطی،  ۳ /  ۱۳۸، الحدیث: ۱۴۶۲ )*   
حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا    سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے  (تین مرتبہ اس طرح) ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جس نے قومِ لوط جیسا عمل کیا ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے         جس نے قومِ لوط جیسا عمل کیا، اللہ  تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جس نے قومِ لوط جیسا عمل کیا۔ *(سنن الکبری للنسائی، ابواب التعزیرات والشہود، من عمل عمل قوم لوط، ۴ / ۳۲۲، الحدیث: ۷۳۳۷)*   
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ، رسولِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے  ارشاد فرمایا ’’جسے تم قومِ لوط جیسا عمل کرتے پاؤ تو لواطت کرنے اور کروانے والے دونوں کو قتل کر دو۔  *( ترمذی، کتاب الحدود، باب ما جاء فی حدّ اللوطی، ۳ / ۱۳۸ ، الحدیث: ۱۴۶۱ )*   
حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ،  رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے  ارشاد فرمایا ’’    اللہ  تعالیٰ اس شخص کی طرف نظررحمت نہیں فرماتا جو کسی مرد یا عورت کے پچھلے مقام میں وطی کرے ۔ *(ترمذی، کتاب الرضاع، باب ما جاء فی کراہیۃ اتیان النساء فی ادبارہنّ، ۲ / ۳۸۸ ، الحدیث:     ۱۱۶۸)*   
حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ بد فعلی کا مرتکب اگر توبہ کیے بغیر مر جائے تو اسے قبر میں خنزیر کی شکل میں بدل دیا جاتا ہے۔  *(کتاب الکبائر، الکبیرۃ الحادیۃ عشر: اللواط، ص ۶۳ )*   
(2 )  شریعتِ مطہرہ میں لواطت یعنی بد فعلی کی سزا یہ ہے اس کے اوپر دیوار گرادی جا ئے یا اونچی جگہ سے اُسے اوندھا کرکے گرایا جا ئے اور اُس پر پتھر برسائے جائیں یا اُسے قید میں رکھا جائے یہاں تک کہ مرجائے یا توبہ کرے یا چند بار ایسا کیا ہوتو بادشاہِ اسلام اُسے قتل کرڈالے۔ *(در مختار مع رد المحتار، کتاب الحدود، باب الوطء الذی یوجب الحد والذی لا یوجبہ، ۶ / ۴۳ -۴۴ ، ملخصاً )*   
اس مسئلے کوصدرُ الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے تفصیل سے اس طرح  ذکر فرمایا: ’’اغلام یعنی پیچھے کے مقام میں وطی کی تو اس کی سزا یہ ہے اس کے اوپر دیوار گرادیں یا اونچی جگہ سے اُسے اوندھا کرکے گرائیں اور اُس پر پتھر برسائیں یا اُسے قید میں رکھیں یہاں تک کہ مرجائے یا توبہ کرے یا چند بار ایسا کیا ہوتو بادشاہِ اسلام اُسے قتل کرڈالے۔ الغرض یہ فعل نہایت خبیث ہے بلکہ زنا سے بھی بدتر ہے، اسی وجہ سے اس میں حد نہیں کہ بعضوں کے نزدیک حد قائم کرنے سے اُس گناہ سے پاک ہوجاتا ہے اور یہ اتنا برا ہے کہ جب تک توبہ خالصہ نہ ہو اس میں پاکی نہ ہوگی اور اغلام کو حلال جاننے والا کافر ہے یہی مذہبِ جمہور ہے۔ *(بہار شریعت، حصہ نہم، حدود کابیان، کہاں حد واجب ہے اور کہاں نہیں،۲/     ۳۸۰-۳۸۱ )*   
 تنبیہ: یہ یاد رہے کہ سزاؤں کے نفاذ کا اختیار صرف حاکمِ اسلام کو ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے