مکّہ کے کافروں کی طرح آج کے بد عقیدہ والوں کی جہالت اولیا اللہ کی نصبت سے جانور کو حرام قرار دیتے ہیں حالانکہ صرف غیر اللہ کے نام پر ذبح سے جانور حرام ہوتا ہیں
مکّہ کے کافروں کی طرح آج کے بد عقیدہ والوں کی جہالت اولیا اللہ کی نصبت سے جانور کو حرام قرار دیتے ہیں حالانکہ صرف غیر اللہ کے نام پر ذبح سے جانور حرام ہوتا ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
تو اللہ کا دیا ہوا حلال پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ تم پر صرف مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا سب حرام کردیا ہے پھر جومجبور ہو اس حال میں کہ نہ خواہش سے کھا رہا ہو اور نہ حد سے بڑھ رہا ہو توبیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ *(سورۃ النحل آیت نمبر 114/115)*
تفسیر صراط الجنان
{ فَكُلُوْا : تو کھاؤ!} جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم لوٹ، غصب اور خبیث پیشوں سے حاصل کئے ہوئے جو حرام اور خبیث مال کھایا کرتے تھے ان کی بجائے حلال اور پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ *(خازن، النحل، تحت الآیۃ : ۱۱۴، ۳ / ۱۴۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ : ۱۱۴، ص۶۱۲، ملتقطاً )*
{ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ : تم پر تو یہی حرام کیا ہے۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا بیان اس آیت میں ہوا نہ کہ بحیرہ سائبہ وغیرہ جانور جنہیں کفار اپنے گمان کے مطابق حرام سمجھتے تھے۔ نیز جو شخص آیت میں مذکور حرام چیزوں میں سے کچھ کھانے پر مجبور ہو جائے تووہ ضرورت کے مطابق ان میں سے کھا سکتا ہے۔ *( ابو سعود، النحل، تحت الآیۃ : ۱۱۵، ۳ / ۲۹۹، ملخصاً )*
ترجمۂ کنز العرفان
تو اللہ کا دیا ہوا حلال پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ تم پر صرف مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا سب حرام کردیا ہے پھر جومجبور ہو اس حال میں کہ نہ خواہش سے کھا رہا ہو اور نہ حد سے بڑھ رہا ہو توبیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ *(سورۃ النحل آیت نمبر 114/115)*
تفسیر صراط الجنان
{ فَكُلُوْا : تو کھاؤ!} جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم لوٹ، غصب اور خبیث پیشوں سے حاصل کئے ہوئے جو حرام اور خبیث مال کھایا کرتے تھے ان کی بجائے حلال اور پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ *(خازن، النحل، تحت الآیۃ : ۱۱۴، ۳ / ۱۴۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ : ۱۱۴، ص۶۱۲، ملتقطاً )*
{ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ : تم پر تو یہی حرام کیا ہے۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا بیان اس آیت میں ہوا نہ کہ بحیرہ سائبہ وغیرہ جانور جنہیں کفار اپنے گمان کے مطابق حرام سمجھتے تھے۔ نیز جو شخص آیت میں مذکور حرام چیزوں میں سے کچھ کھانے پر مجبور ہو جائے تووہ ضرورت کے مطابق ان میں سے کھا سکتا ہے۔ *( ابو سعود، النحل، تحت الآیۃ : ۱۱۵، ۳ / ۲۹۹، ملخصاً )*
Comments
Post a Comment