اس آیات سے بد عقیدہ والے اولیا اللہ اور انبیاء کرم کی مدد کا انکار کرتے ہیں یہ ان کی جہالت ہیں
اس آیات سے بد عقیدہ والے اولیا اللہ اور انبیاء کرم کی مدد کا انکار کرتے ہیں یہ ان کی جہالت ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سواکوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والا نہیں ۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ *(سورۃ یونس آیت نمبر 107)*
تفسیر صراط الجنان
{ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ : تو اس کے سوا کوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں۔} یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو نفع بھی پہنچاتے ہیں اور نقصان بھی جبکہ آیت میں کسی مخلوق کے نفع نقصان پہنچانے کا انکار کیا گیا ہے۔ اِس سوال کا جواب آیت کے الفاظ میں ہی موجود ہے کہ مخلوق کے نفع نقصان پہنچانے کا انکار نہیں کیا گیا بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو نفع پہنچانا چاہے تو کوئی اسے روک کرنقصان نہیں پہنچا سکتا اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے نقصان کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس نقصان کو ٹال کر نفع نہیں پہنچا سکتا۔
{ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ : اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے۔}
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ وُسعت اور آسانی کا ارادہ فرمائے تو اس کے رزق کو روکنے والا کوئی نہیں ،وہی نفع و نقصان میں ہر ایک کا مالک ہے تمام کائنات اسی کی محتاج ہے وہی ہر چیز پر قادر اور جودو کرم والا ہے، بندوں کو اس کی طرف رغبت اور اس کا خوف اور اسی پر بھروسہ اور اسی پر اعتماد چاہیے اور نفع و ضَرر جو کچھ بھی ہے وہی اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے اور وہی اپنے بندوں کے گناہوں کو چھپانے والا اور ان پر مہربان ہے۔ *(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۷ ، ۲/ ۳۳۸)*
ترجمۂ کنز العرفان
اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سواکوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والا نہیں ۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ *(سورۃ یونس آیت نمبر 107)*
تفسیر صراط الجنان
{ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ : تو اس کے سوا کوئی تکلیف کو دور کرنے والا نہیں۔} یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو نفع بھی پہنچاتے ہیں اور نقصان بھی جبکہ آیت میں کسی مخلوق کے نفع نقصان پہنچانے کا انکار کیا گیا ہے۔ اِس سوال کا جواب آیت کے الفاظ میں ہی موجود ہے کہ مخلوق کے نفع نقصان پہنچانے کا انکار نہیں کیا گیا بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو نفع پہنچانا چاہے تو کوئی اسے روک کرنقصان نہیں پہنچا سکتا اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے نقصان کا ارادہ فرمائے تو کوئی اس نقصان کو ٹال کر نفع نہیں پہنچا سکتا۔
{ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ : اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے۔}
آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ وُسعت اور آسانی کا ارادہ فرمائے تو اس کے رزق کو روکنے والا کوئی نہیں ،وہی نفع و نقصان میں ہر ایک کا مالک ہے تمام کائنات اسی کی محتاج ہے وہی ہر چیز پر قادر اور جودو کرم والا ہے، بندوں کو اس کی طرف رغبت اور اس کا خوف اور اسی پر بھروسہ اور اسی پر اعتماد چاہیے اور نفع و ضَرر جو کچھ بھی ہے وہی اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے اور وہی اپنے بندوں کے گناہوں کو چھپانے والا اور ان پر مہربان ہے۔ *(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۰۷ ، ۲/ ۳۳۸)*
Comments
Post a Comment