ماں کے پیٹ میں کیا ہیں اگر حضور ﷺ کے لئے ثابت کرے تو بد مذہب اعتراض کرتے ہیں ڈاکٹر کے جاننے پر اعتراض نہیں کرتے جس کو بھی جو علم ملتا ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں چائے علم غیب ہو یا ٹیکنالوجی کیا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے رحم میں بچے کے بارے میں جاننا قرآن کے خلاف ہے؟
ماں کے پیٹ میں کیا ہیں اگر حضور ﷺ کے لئے ثابت کرے تو بد مذہب اعتراض کرتے ہیں ڈاکٹر کے جاننے پر اعتراض نہیں کرتے جس کو بھی جو علم ملتا ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں چائے علم غیب ہو یا ٹیکنالوجی کیا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے رحم میں بچے کے بارے میں جاننا قرآن کے خلاف ہے؟*
ترجمۂ کنز العرفان
*اللہ جانتا ہے جو ہرمادہ کے پیٹ میں ہے اور جو پیٹ کم اور زیادہ ہوتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔ وہ ہر غیب اور ظاہر کو جاننے والا، سب سے بڑا، بلند شان والا ہے۔*
اس کے بارے میں جاننے کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی یہ تحریر انتہائی مفید ہے، چنانچہ ماؤں کے رحم سے متعلق چند آیات ذکر کرنے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ آیاتِ کریمہ میں مولیٰ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی اپنے بے پایاں علوم کے بے شمار اقسام سے ایک سہل قسم کابہت اجمالی ذکر فرماتا ہے کہ ہرمادہ کے پیٹ میں جو کچھ ہے سب کا سارا حال (جیسے) پیٹ رہتے وقت اور اس سے پہلے اور پیدا ہوتے اور پیٹ میں رہتے اور جو کچھ اس پر گزرا اور گزرنے والا ہے، جتنی عمرپائے گا، جوکچھ کام کرے گا، جب تک پیٹ میں رہے گا، اس کا اندرونی بیرونی ایک ایک عضو ، ایک ایک پرزہ جو صورت دیا گیا، جو دیا جائے گا ، ہر ہر رونگٹا جو مقدار، مساحت ،وزن پائے گا، بچے کی لاغری، فربہی، غذا، حرکت ِخفیفہ زائدہ، انبساط، انقباض اور زیادت وقلت ِخون، طمث وحصولِ فضلات وہوا و رطوبات وغیرہا کے باعث آن آن پر پیٹ جو سمٹتے پھیلتے ہیں ، غرض ذرہ ذرہ سب اسے معلوم ہے، ان میں کہیں نہ تخصیص ذکورت وانوثت کا ذکر، نہ مطلق علم کی نفی وحصر، تویہ مہمل ومختل اعتراض پادر ہوا کہ بعض پادریانِ پادر بند ہوا کی تازہ گھڑت ہے۔ اس کااصل منشا معنی آیات میں بے فہمی محض یاحسب ِعادت دیدہ ودانستہ کلامِ الہٰی پرافترا وتہمت ہے۔ قرآنِ عظیم نے کس جگہ فرمایا ہے کہ کوئی کبھی کسی مادہ کے حمل کو کسی طرح تدبیر سے اتنا معلوم نہیں کرسکتا کہ نرہے یا مادہ، اگر کہیں ایسا فرمایا ہو تو نشان دو، اور جب یہ نہیں توبعض وقت بعض اناث کے بعض حمل کا بعض حال بعض تدابیر سے بعض اشخاص نے بعد جہل طویل وعجز مدیدبعض آلات بیجان کا فقیر ومحتاج ہوکر اس فانی وزائل وبے حقیقت نام کے ایک ذرہ علم وقدرت سے (کہ وہ بھی اسی بارگاہ علیم وقدیر سے حصہ رسد چندروز سے چندروز کے لئے پائے اور اب بھی اسی کے قبضہ واقتدار میں ہیں کہ بے اس کے کچھ کام نہ دیں ) اگر صحرا سے ذرہ سمندر سے قطرہ معلوم کرلیا تو یہ آیاتِ کریمہ کے کس حرف کا خلاف ہوا؟
*وہ خود فرماتاہے* : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ *(بقرہ : ۲۵۵)*
اللّٰہ جانتاہے جو ان کے آگے ہے اورجوکچھ پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم سے کسی چیزکو مگرجتنی وہ چاہے۔
تمام جہان میں روزِ اول سے ابدالآباد تک جس نے جو کچھ جانا یا جانے گا سب اسی اِلَّا بِمَاشَآء کے استثناء میں داخل ہے جس کے لاکھوں کروڑوں سربفلک کشیدہ پہاڑوں سے ایک نہایت قلیل وذلیل وبے مقدار ذرہ یہ آلہ بھی ہے، ایسا ہی اعتراض کرنا ہو تو بے گنتی گزشتہ وآئندہ باتوں کا جو علم ہم کو ہے اسی سے کیوں نہ اعتراض کرے جو صیغہ ’’ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ‘‘میں ہے کہ اللّٰہ جانتاہے جوکچھ مادہ کے پیٹ میں ہے بعینہٖ وہی صیغہ’’ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ ‘‘میں ہے کہ اللّٰہ جانتاہے جوکچھ گزرا اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ جب ان بے شمار علوم تاریخی وآسمانی ملنے میں کسی عاقل منصف کے نزدیک اس آیت کاکچھ خلاف نہ ہوا ،نہ تیرہ سو برس سے آج تک کسی پادری صاحب کوان علوم کے باعث اس آیۃ کریمہ پرلب کشائی کاجنون اچھلا تواب ایک ذرا سی آلیا نکال کر اس آیت کا کیا بگاڑ متصور ہوسکتا ہے، ہاں عقل نہ ہو تو بندہ مجبور ہے یاانصاف نہ ملے تو انکھیارا بھی کور ہے ۔ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمْ *(فتاویٰ رضویہ، ۲۶ / ۴۷۰-۴۷۱ )*
*نوٹ:* علومِ ارحام سے تعلق رکھنے والی آیات سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 26 ویں جلد میں موجود رسالہ اَلصَّمْصَام عَلٰی مُشَکِّکٍ فِیْ اٰیَۃِ عُلُوْمِ الْاَرْحَام *(علوم ارحام سے متعلق آیات کی تفسیر)* کا مطالعہ فرمائیں ۔
ترجمۂ کنز العرفان
*اللہ جانتا ہے جو ہرمادہ کے پیٹ میں ہے اور جو پیٹ کم اور زیادہ ہوتے ہیں اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے۔ وہ ہر غیب اور ظاہر کو جاننے والا، سب سے بڑا، بلند شان والا ہے۔*
اس کے بارے میں جاننے کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی یہ تحریر انتہائی مفید ہے، چنانچہ ماؤں کے رحم سے متعلق چند آیات ذکر کرنے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ آیاتِ کریمہ میں مولیٰ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی اپنے بے پایاں علوم کے بے شمار اقسام سے ایک سہل قسم کابہت اجمالی ذکر فرماتا ہے کہ ہرمادہ کے پیٹ میں جو کچھ ہے سب کا سارا حال (جیسے) پیٹ رہتے وقت اور اس سے پہلے اور پیدا ہوتے اور پیٹ میں رہتے اور جو کچھ اس پر گزرا اور گزرنے والا ہے، جتنی عمرپائے گا، جوکچھ کام کرے گا، جب تک پیٹ میں رہے گا، اس کا اندرونی بیرونی ایک ایک عضو ، ایک ایک پرزہ جو صورت دیا گیا، جو دیا جائے گا ، ہر ہر رونگٹا جو مقدار، مساحت ،وزن پائے گا، بچے کی لاغری، فربہی، غذا، حرکت ِخفیفہ زائدہ، انبساط، انقباض اور زیادت وقلت ِخون، طمث وحصولِ فضلات وہوا و رطوبات وغیرہا کے باعث آن آن پر پیٹ جو سمٹتے پھیلتے ہیں ، غرض ذرہ ذرہ سب اسے معلوم ہے، ان میں کہیں نہ تخصیص ذکورت وانوثت کا ذکر، نہ مطلق علم کی نفی وحصر، تویہ مہمل ومختل اعتراض پادر ہوا کہ بعض پادریانِ پادر بند ہوا کی تازہ گھڑت ہے۔ اس کااصل منشا معنی آیات میں بے فہمی محض یاحسب ِعادت دیدہ ودانستہ کلامِ الہٰی پرافترا وتہمت ہے۔ قرآنِ عظیم نے کس جگہ فرمایا ہے کہ کوئی کبھی کسی مادہ کے حمل کو کسی طرح تدبیر سے اتنا معلوم نہیں کرسکتا کہ نرہے یا مادہ، اگر کہیں ایسا فرمایا ہو تو نشان دو، اور جب یہ نہیں توبعض وقت بعض اناث کے بعض حمل کا بعض حال بعض تدابیر سے بعض اشخاص نے بعد جہل طویل وعجز مدیدبعض آلات بیجان کا فقیر ومحتاج ہوکر اس فانی وزائل وبے حقیقت نام کے ایک ذرہ علم وقدرت سے (کہ وہ بھی اسی بارگاہ علیم وقدیر سے حصہ رسد چندروز سے چندروز کے لئے پائے اور اب بھی اسی کے قبضہ واقتدار میں ہیں کہ بے اس کے کچھ کام نہ دیں ) اگر صحرا سے ذرہ سمندر سے قطرہ معلوم کرلیا تو یہ آیاتِ کریمہ کے کس حرف کا خلاف ہوا؟
*وہ خود فرماتاہے* : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ *(بقرہ : ۲۵۵)*
اللّٰہ جانتاہے جو ان کے آگے ہے اورجوکچھ پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم سے کسی چیزکو مگرجتنی وہ چاہے۔
تمام جہان میں روزِ اول سے ابدالآباد تک جس نے جو کچھ جانا یا جانے گا سب اسی اِلَّا بِمَاشَآء کے استثناء میں داخل ہے جس کے لاکھوں کروڑوں سربفلک کشیدہ پہاڑوں سے ایک نہایت قلیل وذلیل وبے مقدار ذرہ یہ آلہ بھی ہے، ایسا ہی اعتراض کرنا ہو تو بے گنتی گزشتہ وآئندہ باتوں کا جو علم ہم کو ہے اسی سے کیوں نہ اعتراض کرے جو صیغہ ’’ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ ‘‘میں ہے کہ اللّٰہ جانتاہے جوکچھ مادہ کے پیٹ میں ہے بعینہٖ وہی صیغہ’’ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ ‘‘میں ہے کہ اللّٰہ جانتاہے جوکچھ گزرا اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ جب ان بے شمار علوم تاریخی وآسمانی ملنے میں کسی عاقل منصف کے نزدیک اس آیت کاکچھ خلاف نہ ہوا ،نہ تیرہ سو برس سے آج تک کسی پادری صاحب کوان علوم کے باعث اس آیۃ کریمہ پرلب کشائی کاجنون اچھلا تواب ایک ذرا سی آلیا نکال کر اس آیت کا کیا بگاڑ متصور ہوسکتا ہے، ہاں عقل نہ ہو تو بندہ مجبور ہے یاانصاف نہ ملے تو انکھیارا بھی کور ہے ۔ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲِ الْعَلِیِّ الْعَظِیمْ *(فتاویٰ رضویہ، ۲۶ / ۴۷۰-۴۷۱ )*
*نوٹ:* علومِ ارحام سے تعلق رکھنے والی آیات سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 26 ویں جلد میں موجود رسالہ اَلصَّمْصَام عَلٰی مُشَکِّکٍ فِیْ اٰیَۃِ عُلُوْمِ الْاَرْحَام *(علوم ارحام سے متعلق آیات کی تفسیر)* کا مطالعہ فرمائیں ۔
Comments
Post a Comment