اصحابِ کہف کی غار کو اللہ‎ تعالیٰ نے دنیا کی نظر سے پوشیدہ رکھا ہے یو ٹیوب پر جو ویڈیو دکھایا جاتا ہیں جھوٹ ہیں اور اولیا اللہ‎ کی مزار کے پاس مسجد بنانا عرس کے دن کو خاص کرنا قرآن سے ثابت ہیں جن کو قرآن کی آیت کی تفسیر معلوم نہیں ہوتی خود بھی گمراہ ہوتے ہیں دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں

اصحابِ کہف  کی غار کو اللہ‎ تعالیٰ نے دنیا کی نظر سے پوشیدہ رکھا ہے یو ٹیوب پر جو ویڈیو دکھایا جاتا ہیں جھوٹ ہیں اور اولیا اللہ‎ کی مزار کے پاس مسجد بنانا عرس کے دن کو خاص کرنا قرآن سے ثابت ہیں جن کو قرآن کی آیت کی تفسیر معلوم نہیں ہوتی خود بھی گمراہ ہوتے ہیں دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں :-*
اکثر مفسرین کے نزدیک اصحابِ کہف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کا واقعہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے آسمان پر تشریف لے جانے کے بعد رونما ہوا اور بعض مفسرین کے نزدیک یہ واقعہ حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے کا ہے اور اس کا ذکر اہلِ کتاب کی مذہبی کتابوں  میں  موجود ہے اور اسی وجہ سے یہودیوں  نے بڑی توجہ کے ساتھ ان کے حالات محفوظ رکھے۔ بہر حال یہ واقعہ کس زمانے میں  رونما ہوا اس کی اصل حقیقت  اللّٰہ  تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، البتہ ہم یہاں  معتبر مفسرین کی طرف سے بیان کردہ اس واقعے کی بعض تفصیلات کا خلاصہ ذکر کرتے ہیں  ، چنانچہ مفسرین کے بیان کے مطابق اصحابِ کہف اُفْسُوس نامی ایک شہر کے شُرفاء و معززین میں  سے ایماندار لوگ تھے۔ ان کے زمانے میں  دقیانوس نامی ایک بڑا جابر بادشاہ تھا جو لوگوں  کو بت پرستی پر مجبور کرتا اورجو شخص بھی بت پرستی پر راضی نہ ہوتا اسے قتل کر ڈالتا تھا۔ دقیانوس بادشاہ کے جَبر و ظلم سے اپنا ایمان بچانے کے لئے اصحابِ کہف بھاگے اور قریب کے پہاڑ میں  غار کے اندر پناہ گزین ہوئے، وہاں  سوگئے اور تین سوبرس سے زیادہ عرصہ تک اسی حال میں  رہے ۔ بادشاہ کو جستجو سے معلوم ہوا کہ وہ ایک غار کے اندر ہیں  تو اس نے حکم دیا کہ غار کو ایک سنگین دیوار کھینچ کر بند کردیا جائے تاکہ وہ اس میں  مر کر رہ جائیں  اور وہ ان کی قبر ہوجائے، یہی ان کی سزا ہے۔ حکومتی عملے میں  سے یہ کام جس کے سپرد کیا گیا وہ نیک آدمی تھا، اس نے ان اصحاب کے نام، تعداد اور پورا واقعہ رانگ کی تختی پرکَنْدَہ کرا کرتا نبے کے صندوق میں  دیوار کی بنیا د کے اندر محفوظ کردیا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اسی طرح ایک تختی شاہی خزانہ میں  بھی محفوظ کرا دی گئی۔ کچھ عرصہ بعد دقیانوس ہلاک ہوا ، زمانے گزرے ، سلطنتیں  بدلیں  یہاں  تک کہ ایک نیک بادشاہ فرمانروا ہوا جس کا نام بیدروس تھا اور اس نے 68 سال حکومت کی ۔ اس کے دورِ حکومت میں  ملک میں  فرقہ بندی پیدا ہوئی اور بعض لوگ مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت آنے کے منکر ہوگئے ۔ بادشاہ ایک تنہا مکان میں  بند ہوگیا اور اس نے گریہ وزاری سے بارگاہِ الٰہی میں  دعا کی کہ یارب! کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما جس سے مخلوق کو مُردوں  کے اٹھنے اور قیامت آنے کا یقین حاصل ہو جائے۔ اسی زمانہ میں  ایک شخص نے اپنی بکریوں  کے لئے آرام کی جگہ حاصل کرنے کے واسطے اسی غار کو تجویز کیا اور  (کچھ لوگوں  کے ساتھ مل کر)  دیوار کوگرا دیا۔ دیوار گرنے کے بعد کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ گرانے والے بھاگ گئے ۔ اصحابِ کہف  اللّٰہ  تعالیٰ کے حکم سے فرحاں  و شاداں  اُٹھے ، چہرے شگفتہ ،طبیعتیں  خوش ، زندگی کی ترو تازگی موجود۔ ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ، نماز سے فارغ ہو کر  یملیخا سے کہا کہ آپ جائیے اور بازار سے کچھ کھانے کو بھی لائیے اور یہ بھی خبر لائیے کہ دقیانوس بادشاہ کا ہم لوگوں  کے بارے میں  کیا ارادہ ہے۔ وہ بازار گئے تو انہوں  نے شہر پناہ کے دروازے پر اسلامی علامت دیکھی اور وہاں  نئے نئے لوگ پائے، یہ دیکھ کر انہیں  تعجب ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ کل تک تو کوئی شخص اپنا ایمان ظاہر نہیں  کرسکتا تھا جبکہ آج اسلامی علامتیں  شہر پناہ پر ظاہر ہیں ۔ پھر کچھ دیر بعد آپ تندور والے کی دوکان پر گئے اور کھانا خریدنے کے لئے اسے دقیانوسی سکے کا روپیہ دیا جس کارواج صدیوں  سے ختم ہوگیا تھا اور اسے دیکھنے والا بھی کوئی باقی نہ رہا تھا۔ بازار والوں  نے خیال کیا کہ کوئی پرانا خزانہ ان کے ہاتھ آگیا ہے، چنانچہ وہ انہیں  پکڑ کر حاکم کے پاس لے گئے، وہ نیک شخص تھا ،اس نے بھی ان سے دریافت کیا کہ خزانہ کہاں  ہے؟ انہوں  نے کہا خزانہ کہیں  نہیں  ہے۔ یہ روپیہ ہمارا اپنا ہے۔ حاکم نے کہا :یہ بات کسی طرح قابلِ یقین نہیں ، کیونکہ اس میں  جو سال لکھا ہوا ہے وہ تین سو برس سے زیادہ کا ہے اور آپ نوجوان ہیں  ،ہم لوگ بوڑھے ہیں  ، ہم نے تو کبھی یہ سکہ دیکھا ہی نہیں  ۔ آپ نے فرمایا: میں  جو دریافت کروں  وہ ٹھیک ٹھیک بتاؤ تو عُقدہ حل ہوجائے گا۔ یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کس حال وخیال میں  ہے ؟ حاکم نے کہا، آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ، سینکڑوں  برس پہلے ایک بے ایمان بادشاہ اس نام کا گزرا ہے۔ آپ نے فرمایا: کل ہی تو ہم اس کے خوف سے جان بچا کر بھاگے ہیں  اور میرے ساتھی قریب کے پہاڑ میں  ایک غار کے اندر پناہ گزین ہیں  ، چلو میں  تمہیں  ان سے ملادوں  ، حاکم اور شہر کے سردار اور ایک کثیر مخلوق ان کے ہمراہ غار کے کنارے پہنچ گئے۔ اصحابِ کہف  یملیخا  کے انتظار میں  تھے ، جب انہوں  نے کثیر لوگوں  کے آنے کی آواز سنی تو سمجھے کہ  یملیخا پکڑے گئے اور دقیانوسی فوج ہماری جستجو میں  آرہی ہے۔ چنانچہ وہ  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی حمدمیں  مشغول ہوگئے۔ اتنے میں  شہر کے لوگ پہنچ گئے اور  یملیخا نے بقیہ حضرات کو تمام قصہ سنایا، ان حضرات نے سمجھ لیا کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے اتنا طویل زمانہ سوئے رہے اور اب اس لئے اٹھائے گئے ہیں  کہ لوگوں  کے لئے موت کے بعد زندہ کئے جانے کی دلیل اور نشانی بنیں ۔ جب حاکمِ شہر غار کے کنارے پہنچا تو اس نے تانبے کا صندوق دیکھا ، اس کو کھلوایا تو تختی برآمد ہوئی، اس تختی میں  اُن اصحاب کے اَسماء اور اُن کے کتے کا نام لکھا تھا ، یہ بھی لکھا تھا کہ یہ جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس کے ڈر سے اس غار میں  پناہ گزین ہوئی، دقیانوس نے خبر پا کر ایک دیوار سے انہیں  غار میں  بند کردینے کا حکم دیا ، ہم یہ حال اس لئے لکھتے ہیں  تاکہ جب کبھی یہ غار کھلے تو لوگ ان کے حال پر مطلع ہوجائیں  ۔ یہ تختی پڑھ کر سب کو تعجب ہوا اور لوگ      اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثناء بجالائے کہ اس نے ایسی نشانی ظاہر فرمادی جس سے موت کے بعد اٹھنے کا یقین حاصل ہوتا ہے۔ حاکمِ شہرنے اپنے بادشاہ بید روس کو واقعہ کی اطلاع دی ، چنانچہ بادشاہ بھی بقیہ معززین اور سرداروں  کو لے کر حاضر ہوا اور شکرِ الٰہی کا سجدہ بجا لایا کہ  اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کی ۔اصحاب ِکہف نے بادشاہ سے مُعانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کرتے ہیں ۔  والسلام علیک ورحمۃ اللّٰہ وبرکا تہ ،اللّٰہ  تعالیٰ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن و اِنس کے شر سے بچائے ۔بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنے خواب گاہوں  کی طرف واپس ہو کر مصروفِ خواب ہوئے اور  اللّٰہ  تعالیٰ نے انہیں  وفات دیدی، بادشاہ نے سال کے صندوق میں  ان کے اَجساد کو محفوظ کیا اور  اللّٰہ  تعالیٰ نے رُعب سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں  کہ وہاں  پہنچ سکے ۔ بادشاہ نے سرِغار مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک خوشی کا دن معین کردیا کہ ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں  آیا کریں ۔ *(خازن، الکھف، تحت الآیۃ : ۱۰ ، ۳ / ۱۹۸-۲۰۳ ، تفسیر ابن کثیر، الکھف، تحت الآیۃ : ۲۱ ، ۵ / ۱۳۲-۱۳۳ ،  خزائن العرفان، الکہف، تحت الآیۃ:  ۱۰، ص ۵۴۹-۵۵۰، ملتقطا)*   
اس سے معلوم ہوا کہ صالحین میں  عرس کا معمول قدیم سے ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے