تمام نبی بشر ہی ہوتے ہیں ماننے اور کہنے میں فرق ہوتا نبی کو اپنا جیسا بشر کہنے والوں تمہرا باپ بھی تو گنہگار ہیں اس کو بھی گنہگار کہا کرو
تمام نبی بشر ہی ہوتے ہیں ماننے اور کہنے میں فرق ہوتا نبی کو اپنا جیسا بشر کہنے والوں تمہرا باپ بھی تو گنہگار ہیں اس کو بھی گنہگار کہا کرو :-*
ترجمۂ کنز العرفان
اور انہوں نے کہا: ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ بہا دو ۔ یا تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو پھر تم ان کے درمیان خوب نہریں جاری کردو۔ یا تم ہم پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دو جیسا تم نے کہا ہے یااللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ۔ یا تمہارے لئے کوئی سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھ جانے پر بھی ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم پر ایک کتاب نہ اتارو جو ہم پڑھیں ۔تم فرماؤ:میرا رب پاک ہے میں تو صرف اللہ کا بھیجا ہوا ایک آدمی ہوں ۔اور لوگوں کو ایمان لانے سے ان کے پاس ہدایت آجانے کے بعد اسی بات نے منع کررکھا ہے کہ وہ کہتے ہیں : کیا اللہ نے ایک آدمی کو رسول بنا کر بھیجا؟ تم فرماؤ: اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو اطمینا ن سے چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے کو ہی رسول بنا کر بھیجتے ۔ تم فرماؤ : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ، بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا، دیکھنے والا ہے۔ *(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 90/96)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ قَالُوْا : اور انہوں نے کہا۔} آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب قرآنِ کریم کا اِعجاز خوب ظاہر ہوچکا اور واضح معجزات نے حجت قائم کردی اور کفار کے لئے عذر کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو وہ لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرنے لگے اور اُنہوں نے کہہ دیا کہ ہم ہر گز آپ پر ایمان نہ لائیں گے، چنانچہ مروی ہے کہ کفارِ قریش کے سردار کعبہ معظمہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بلوا یا۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آج گفتگو کرکے آپ سے معاملہ طے کرلیں تاکہ ہم پھر آپ کے حق میں (کوئی بھی کاروائی کرنے میں ) معذور سمجھے جائیں ۔عرب میں کوئی آدمی ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم پر وہ شدتیں کی ہوں جو آپ نے کردی ہیں ۔ آپ نے ہمارے باپ دادا کو برا کہا، ہمارے دین کو عیب لگائے، ہمارے دانش مندوں کو کم عقل ٹھہرایا ، ہمارے معبودوں کی توہین کی ، ہماری جماعت متفرق کردی اور کوئی برائی اُٹھا نہ رکھی یعنی سب کچھ آپ نے کیا۔ یہ بتاؤ کہ اس سے تمہاری غرض کیا ہے؟ اگر تم مال چاہتے ہو تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کردیں کہ ہماری قوم میں تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ اور اگر اعزاز چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنالیں اور اگر ملک و سلطنت چاہتے ہو تو ہم تمہیں بادشاہ تسلیم کرلیں ،یہ سب باتیں کرنے کے لئے ہم تیار ہیں اور اگر تمہیں کوئی دماغی بیماری ہوگئی ہے یا کوئی خَلِش ہوگیا ہے تو ہم تمہارا علاج کریں اور اس میں جس قدر خرچ ہو اُٹھائیں ۔ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ان میں سے کوئی بات نہیں اور میں مال ، سلطنت اور سرداری کسی چیز کا طلب گار نہیں ۔ بات صرف اتنی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور حکم دیا کہ میں تمہیں اس کے ماننے پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور نعمت ِآخرت کی بشارت دوں اور انکار کرنے پر عذابِ الٰہی کا خوف دلاؤں ۔ میں نے تمہیں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا پیغام پہنچایا ہے۔ اگر تم اسے قبول کرو تو یہ تمہارے لئے دنیاو آخرت کی خوش نصیبی ہے اور نہ مانو تو میں صبر کروں گا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلہ کا انتظار کروں گا ۔اس پر ان لوگوں نے کہا :اے محمد! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) اگر آپ ہمارے معروضات کو قبول نہیں کرتے ہیں تو اِن پہاڑوں کو ہٹا دیجئے اور میدان صاف نکال دیجئے اور نہریں جاری کر دیجئے اور ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر دیجئے۔ ہم ان سے پوچھ دیکھیں کہ آپ جو فرماتے ہیں کیا وہ سچ ہے؟ اگر وہ کہہ دیں گے تو ہم مان لیں گے۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ میں ان باتوں کے لئے نہیں بھیجا گیا اور جو پہنچانے کے لئے میں بھیجا گیا تھا وہ میں نے پہنچا دیا، اگر تم مانو توتمہارا نصیب اور نہ مانو تو میں خدائی فیصلے کا انتظار کروں گا ۔ کفار نے کہا: پھر آپ اپنے رب سے عرض کر کے ایک فرشتہ بلوا لیجئے جو آپ کی تصدیق کرے اور اپنے لئے باغ ، محل اور سو نے چاندی کے خزانے طلب کیجئے۔ رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میں اس لئے نہیں بھیجا گیا۔ میں بشیرو نذیر بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ اس پر وہ لوگ کہنے لگے :تو ہم پرآسمان گروا دیجئے اور ان میں سے بعض یہ بولے کہ ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اور فرشتوں کو ہمارے پاس نہ لایئے ۔ اس پر نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس مجلس سے اٹھ آئے اور عبداللّٰہ بن اُمیہ آپ کے ساتھ اُٹھا اور آپ سے کہنے لگا: خدا کی قسم! میں کبھی ایمان نہ لاؤں گا جب تک آپ سیڑھی لگا آسمان پر نہ چڑھو اور میری نظروں کے سامنے وہاں سے ایک کتاب اور فرشتوں کی ایک جماعت لے کرنہ آؤ اور خدا کی قسم! اگریہ بھی کروتو میں سمجھتا ہوں کہ میں پھر بھی نہ مانوں گا۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب دیکھا کہ یہ لوگ اس قدر ضد او ر عنا د میں ہیں اور ان کی حق سے دشمنی حد سے گزر گئی ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کواُن کی حالت پر رنج ہوا اس پر آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ *( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ : ۹۰ ، ۳ / ۱۹۱-۱۹۲ )*
{ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ : تم فرماؤ، میرا رب پاک ہے۔} کفار کے تمام مطالبات کے جواب میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایک ہی جواب دینے کا ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا کام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا پیغام پہنچا دینا ہے، وہ میں نے پہنچا دیا ہے اور جس قدر معجزات و آیات یقین و اطمینان کے لئے درکار ہیں اُن سے بہت زیادہ میرا پروردگار عَزَّوَجَلَّ ظاہر فرما چکا لہٰذا حجت پوری ہوچکی ہے ۔ اب یہ سمجھ لو کہ رسول کے انکار کرنے اور آیاتِ الٰہیہ سے مکرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔
{ اَنْ یُّؤْمِنُوْا : کہ ایمان لائیں ۔} ارشاد فرمایا ، حالانکہ لوگوں کے پاس ہدایت آچکی ہے مگر انہیں صرف اس بات نے ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ کیا اللّٰہ تعالیٰ نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا ہے؟ یعنی وہ لوگ رسولوں کو بشر ہی جانتے رہے اور اُن کے منصب ِنبوت اور اللّٰہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے کمالات کے معترف نہ ہوئے، یہی اُن کے کفر کی اصل وجہ تھی اور اسی لئے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا۔ *(خازن، الاسراء، تحت الآیۃ :۹۴ ، ۳ / ۱۹۲-۱۹۳ ، ملخصاً)* اسی کا جواب اگلی آیت میں دیا گیا۔
{ لَوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓىٕكَةٌ : اگر زمین میں فرشتے ہوتے۔} کفار کے جواب میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ تم ان سے فرما دو کہ اگر انسانوں کی بجائے زمین میں صرف فرشتے رہائش پذیر ہوتے جو یہاں چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے کو ہی رسول بنا کر بھیجتے لیکن جب زمین میں انسان بستے ہیں تو رسول بھی انسان ہی بنایا جاتا ہے۔ فرشتوں کیلئے فرشتہ ہی رسول بھیجا جاتا کیونکہ وہ اُن کی جنس سے ہوتا لیکن جب زمین میں آدمی بستے ہیں تو اُن کا ملائکہ میں سے رسول طلب کرنا نہایت ہی بے جا ہے۔ *(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ : ۹۵ ، ۵ / ۲۰۵، ملخصاً )*
{ قُلْ : تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ فرما دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اس بات پر اللّٰہ تعالیٰ ہی گواہ کافی ہے کہ جس چیز کے ساتھ مجھے بھیجا گیا وہ میں نے تم تک پہنچا دی اور تم نے (اسے) جھٹلایا اور دشمنی کی، بے شک وہ اپنے بندوں یعنی رسولوں اور جن کی طرف انہیں بھیجا گیا ان کے ظاہری اور باطنی تمام احوال کی خبر رکھنے والا اور انہیں دیکھنے والا ہے تو وہ انہیں اس کی جزا دے گا۔ *(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ : ۹۶ ، ۵ / ۲۰۵ )*
ترجمۂ کنز العرفان
اور انہوں نے کہا: ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ بہا دو ۔ یا تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو پھر تم ان کے درمیان خوب نہریں جاری کردو۔ یا تم ہم پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دو جیسا تم نے کہا ہے یااللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ۔ یا تمہارے لئے کوئی سونے کا گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھ جانے پر بھی ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم پر ایک کتاب نہ اتارو جو ہم پڑھیں ۔تم فرماؤ:میرا رب پاک ہے میں تو صرف اللہ کا بھیجا ہوا ایک آدمی ہوں ۔اور لوگوں کو ایمان لانے سے ان کے پاس ہدایت آجانے کے بعد اسی بات نے منع کررکھا ہے کہ وہ کہتے ہیں : کیا اللہ نے ایک آدمی کو رسول بنا کر بھیجا؟ تم فرماؤ: اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو اطمینا ن سے چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے کو ہی رسول بنا کر بھیجتے ۔ تم فرماؤ : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ، بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا، دیکھنے والا ہے۔ *(سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 90/96)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ قَالُوْا : اور انہوں نے کہا۔} آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب قرآنِ کریم کا اِعجاز خوب ظاہر ہوچکا اور واضح معجزات نے حجت قائم کردی اور کفار کے لئے عذر کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو وہ لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرنے لگے اور اُنہوں نے کہہ دیا کہ ہم ہر گز آپ پر ایمان نہ لائیں گے، چنانچہ مروی ہے کہ کفارِ قریش کے سردار کعبہ معظمہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بلوا یا۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آج گفتگو کرکے آپ سے معاملہ طے کرلیں تاکہ ہم پھر آپ کے حق میں (کوئی بھی کاروائی کرنے میں ) معذور سمجھے جائیں ۔عرب میں کوئی آدمی ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم پر وہ شدتیں کی ہوں جو آپ نے کردی ہیں ۔ آپ نے ہمارے باپ دادا کو برا کہا، ہمارے دین کو عیب لگائے، ہمارے دانش مندوں کو کم عقل ٹھہرایا ، ہمارے معبودوں کی توہین کی ، ہماری جماعت متفرق کردی اور کوئی برائی اُٹھا نہ رکھی یعنی سب کچھ آپ نے کیا۔ یہ بتاؤ کہ اس سے تمہاری غرض کیا ہے؟ اگر تم مال چاہتے ہو تو ہم تمہارے لئے اتنا مال جمع کردیں کہ ہماری قوم میں تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ اور اگر اعزاز چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنالیں اور اگر ملک و سلطنت چاہتے ہو تو ہم تمہیں بادشاہ تسلیم کرلیں ،یہ سب باتیں کرنے کے لئے ہم تیار ہیں اور اگر تمہیں کوئی دماغی بیماری ہوگئی ہے یا کوئی خَلِش ہوگیا ہے تو ہم تمہارا علاج کریں اور اس میں جس قدر خرچ ہو اُٹھائیں ۔ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ان میں سے کوئی بات نہیں اور میں مال ، سلطنت اور سرداری کسی چیز کا طلب گار نہیں ۔ بات صرف اتنی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور حکم دیا کہ میں تمہیں اس کے ماننے پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور نعمت ِآخرت کی بشارت دوں اور انکار کرنے پر عذابِ الٰہی کا خوف دلاؤں ۔ میں نے تمہیں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا پیغام پہنچایا ہے۔ اگر تم اسے قبول کرو تو یہ تمہارے لئے دنیاو آخرت کی خوش نصیبی ہے اور نہ مانو تو میں صبر کروں گا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلہ کا انتظار کروں گا ۔اس پر ان لوگوں نے کہا :اے محمد! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) اگر آپ ہمارے معروضات کو قبول نہیں کرتے ہیں تو اِن پہاڑوں کو ہٹا دیجئے اور میدان صاف نکال دیجئے اور نہریں جاری کر دیجئے اور ہمارے مرے ہوئے باپ دادا کو زندہ کر دیجئے۔ ہم ان سے پوچھ دیکھیں کہ آپ جو فرماتے ہیں کیا وہ سچ ہے؟ اگر وہ کہہ دیں گے تو ہم مان لیں گے۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ میں ان باتوں کے لئے نہیں بھیجا گیا اور جو پہنچانے کے لئے میں بھیجا گیا تھا وہ میں نے پہنچا دیا، اگر تم مانو توتمہارا نصیب اور نہ مانو تو میں خدائی فیصلے کا انتظار کروں گا ۔ کفار نے کہا: پھر آپ اپنے رب سے عرض کر کے ایک فرشتہ بلوا لیجئے جو آپ کی تصدیق کرے اور اپنے لئے باغ ، محل اور سو نے چاندی کے خزانے طلب کیجئے۔ رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ میں اس لئے نہیں بھیجا گیا۔ میں بشیرو نذیر بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ اس پر وہ لوگ کہنے لگے :تو ہم پرآسمان گروا دیجئے اور ان میں سے بعض یہ بولے کہ ہم ہر گز ایمان نہ لائیں گے جب تک آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اور فرشتوں کو ہمارے پاس نہ لایئے ۔ اس پر نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس مجلس سے اٹھ آئے اور عبداللّٰہ بن اُمیہ آپ کے ساتھ اُٹھا اور آپ سے کہنے لگا: خدا کی قسم! میں کبھی ایمان نہ لاؤں گا جب تک آپ سیڑھی لگا آسمان پر نہ چڑھو اور میری نظروں کے سامنے وہاں سے ایک کتاب اور فرشتوں کی ایک جماعت لے کرنہ آؤ اور خدا کی قسم! اگریہ بھی کروتو میں سمجھتا ہوں کہ میں پھر بھی نہ مانوں گا۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب دیکھا کہ یہ لوگ اس قدر ضد او ر عنا د میں ہیں اور ان کی حق سے دشمنی حد سے گزر گئی ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کواُن کی حالت پر رنج ہوا اس پر آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ *( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ : ۹۰ ، ۳ / ۱۹۱-۱۹۲ )*
{ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ : تم فرماؤ، میرا رب پاک ہے۔} کفار کے تمام مطالبات کے جواب میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایک ہی جواب دینے کا ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا کام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا پیغام پہنچا دینا ہے، وہ میں نے پہنچا دیا ہے اور جس قدر معجزات و آیات یقین و اطمینان کے لئے درکار ہیں اُن سے بہت زیادہ میرا پروردگار عَزَّوَجَلَّ ظاہر فرما چکا لہٰذا حجت پوری ہوچکی ہے ۔ اب یہ سمجھ لو کہ رسول کے انکار کرنے اور آیاتِ الٰہیہ سے مکرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔
{ اَنْ یُّؤْمِنُوْا : کہ ایمان لائیں ۔} ارشاد فرمایا ، حالانکہ لوگوں کے پاس ہدایت آچکی ہے مگر انہیں صرف اس بات نے ایمان لانے سے روک رکھا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ کیا اللّٰہ تعالیٰ نے آدمی کو رسول بناکر بھیجا ہے؟ یعنی وہ لوگ رسولوں کو بشر ہی جانتے رہے اور اُن کے منصب ِنبوت اور اللّٰہ تعالیٰ کے عطا فرمائے ہوئے کمالات کے معترف نہ ہوئے، یہی اُن کے کفر کی اصل وجہ تھی اور اسی لئے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا۔ *(خازن، الاسراء، تحت الآیۃ :۹۴ ، ۳ / ۱۹۲-۱۹۳ ، ملخصاً)* اسی کا جواب اگلی آیت میں دیا گیا۔
{ لَوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓىٕكَةٌ : اگر زمین میں فرشتے ہوتے۔} کفار کے جواب میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ تم ان سے فرما دو کہ اگر انسانوں کی بجائے زمین میں صرف فرشتے رہائش پذیر ہوتے جو یہاں چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے کو ہی رسول بنا کر بھیجتے لیکن جب زمین میں انسان بستے ہیں تو رسول بھی انسان ہی بنایا جاتا ہے۔ فرشتوں کیلئے فرشتہ ہی رسول بھیجا جاتا کیونکہ وہ اُن کی جنس سے ہوتا لیکن جب زمین میں آدمی بستے ہیں تو اُن کا ملائکہ میں سے رسول طلب کرنا نہایت ہی بے جا ہے۔ *(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ : ۹۵ ، ۵ / ۲۰۵، ملخصاً )*
{ قُلْ : تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ فرما دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اس بات پر اللّٰہ تعالیٰ ہی گواہ کافی ہے کہ جس چیز کے ساتھ مجھے بھیجا گیا وہ میں نے تم تک پہنچا دی اور تم نے (اسے) جھٹلایا اور دشمنی کی، بے شک وہ اپنے بندوں یعنی رسولوں اور جن کی طرف انہیں بھیجا گیا ان کے ظاہری اور باطنی تمام احوال کی خبر رکھنے والا اور انہیں دیکھنے والا ہے تو وہ انہیں اس کی جزا دے گا۔ *(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ : ۹۶ ، ۵ / ۲۰۵ )*
Comments
Post a Comment