گرج کی آواز کے ساتھ کافر کی موت کی خبر حضور ﷺ کے علم غیب کا اظہار گرج کی آواز سن کرکئے جانے والے عمل:-*

گرج کی آواز کے ساتھ کافر کی موت کی خبر حضور ﷺ کے علم غیب کا اظہار گرج کی آواز سن کرکئے جانے والے عمل:-* 
ترجمۂ کنز العرفان       
اور رعد اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہے اور اس کے خوف سے فرشتے بھی (تسبیح کرتے ہیں ۔) اور وہ کڑک بھیجتا ہے تو اسے جس پر چاہتا ہے ڈال دیتا ہے حالانکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑرہے ہوتے ہیں اور وہ سخت پکڑنے والا ہے۔ *(سورۃ الرعد  آیت نمبر 13)*
یاد رہے کہ گرج اور کڑک کی آواز اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وعید ہے لہٰذا جب اس کی آواز سنیں  تو اپنی دنیوی گفتگو روک کر  اللّٰہ  تعالیٰ کے ذکر میں  مشغول ہو جائیں اور  اللّٰہ  تعالیٰ کے عذاب سے اس کی پناہ مانگیں ، چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن زبیر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  جب گرج کی آواز سنتے تو آپ گفتگو چھوڑ کر یہ آیت پڑھتے ’’ وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ  ‘‘پھر فرماتے: بے شک یہ زمین والوں  کے لئے شدید وعید ہے۔ *(سنن الکبری للبیہقی، کتاب صلاۃ الاستسقاء، باب ما یقول اذا سمع الرعد، ۳ / ۵۰۵ ، الحدیث : ۶۴۷۱)*
 حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں  ،جب نبی اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو یہ دعا مانگتے ’’    *اَللّٰہُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ*  یعنی اے  اللّٰہ  ! ہمیں  اپنے غضب سے نہ مارنا اور اپنے عذاب سے ہلاک نہ کرنا اور ہمیں  اپنا عذاب نازل ہونے سے پہلے عافیت عطا فرما۔  *(ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما یقول اذا سمع الرعد ، ۵ / ۲۸۰ ،     الحدیث : ۳۴۶۱)*
 حضرت عبداللّٰہ بن عباس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا ’’جب تم گرج کی آواز سنو تو  اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرنا شروع کر دو کیونکہ یہ ذکر کرنے والے کو نہیں  پہنچتی۔ *(معجم الکبیر، عطاء عن ابن عباس ، ۱۱ / ۱۳۲ ، الحدیث : ۱۱۳۷۱)*       
{ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ : اور فرشتے اس کے ڈر سے۔} اس سے مراد وہ فرشتے ہیں  جو بادلوں  پر مامو ر فرشتے کے مددگار ہیں  یا اس سے تمام ملائکہ مراد ہیں  اور آیت کا معنی یہ ہے کہ فرشتے  اللّٰہ تعالیٰ کی ہیبت اور اس کے جلال سے اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔ *(جلالین مع صاوی، الرعد، تحت الآیۃ  :   ۱۳ ، ۳ / ۹۹۵ )*       
{ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ  : اور وہ کڑک بھیجتا ہے۔}  صَاعِقَہْ اس شدید آواز کو کہتے ہیں  جو آسمان وزمین کے درمیان سے اترتی ہے، پھر اس میں  آگ پیدا ہوجاتی ہے یا عذاب یا موت اور وہ شدید آواز اپنی ذات میں  ایک ہی چیز ہے اور یہ تینوں  چیزیں  اسی سے پیدا ہوتی ہیں ۔ شانِ نزول:حضرت حسن  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافر کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنے چند صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو بھیجا، انہوں  نے اس کافر کو دعوت دی تو وہ کہنے لگا ’’محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کا رب کون ہے جس کی تم مجھے دعوت دیتے ہو۔ کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ، لوہے کا ہے یا تانبے کا؟ مسلمانوں  کو یہ بات بہت گراں  گزری اور انہوں  نے واپس آکرحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض کیا کہ ایسا بڑا کافر، سیاہ دل اور سرکش دیکھنے میں  نہیں  آیا۔ حضور پُرنور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ’’ اس کے پاس پھر جاؤ۔ اس نے پھر وہی گفتگو کی اور اتنا مزید کہا کہ کیا محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) کی دعوت قبول کرکے میں  ایسے رب کو مان لوں  جسے نہ میں  نے دیکھا نہ پہچانا ؟یہ حضرات پھر واپس ہوئے اور انہوں  نے عرض کی کہ حضور!  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، اس کی خباثت تو اور ترقی پر ہے۔ ارشاد فرمایا ’’ پھر جاؤ۔ صحابۂ کرام   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم  حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پھر گئے ،جس وقت اس سے گفتگو کررہے تھے اور وہ ایسی ہی سیاہ دلی کی باتیں  بک رہا تھا تو ایک بادل آیا، اس سے بجلی چمکی اور کڑک پیدا ہوئی ، کچھ دیر بعد بجلی گری اور اس کافر کو جلا دیا۔ یہ حضرات اس کے پاس بیٹھے رہے اور جب وہاں  سے واپس ہوئے تو راستے میں  انہیں  صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک اور جماعت ملی ،وہ کہنے لگے’’ کہیے ،وہ شخص جل گیا ؟ان حضرات نے کہا ’’آپ لوگوں  کو کیسے معلوم ہوگیا ؟انہوں  نے فرمایا ’’ سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پاس وحی آئی ہے۔ ’’ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ *(خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۳ ، ۳ / ۵۷ )*

Comments