دیوبندی وہابی اہلے حدیث حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے لئے کیا فتویٰ دینگے* *جو قرآن کی آیات سے قیامت کے حالات بیان کر رہے ہیں جو علم غیب کے بینا ممکن نہیں قیامت کے دن انسانوں کا جھگڑنا

دیوبندی وہابی اہلے حدیث حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے لئے کیا فتویٰ دینگے* *جو قرآن کی آیات سے قیامت کے حالات بیان کر رہے ہیں جو علم غیب کے بینا ممکن نہیں قیامت کے دن انسانوں کا جھگڑنا :-* 
ترجمۂ کنز العرفان   
یاد کرو جس دن ہر جان اپنی طرف سے جھگڑتی ہوئی آئے گی اور ہر جان کو اس کا عمل پورا پورا دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا *۔(سورۃ النحل آیت نمبر 111)*
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں میں جھگڑا یہاں  تک بڑھے گا کہ روح اور جسم میں  بھی جھگڑا ہوگا، روح کہے گی: یارب!   (جسم میں  داخل ہونے سے پہلے )  نہ میرے ہاتھ تھے کہ میں  ان سے کسی کو پکڑتی ، نہ پاؤں تھے کہ ان کے ذریعے چلتی، نہ آنکھ تھی کہ اس سے دیکھتی (گویا میں    قصور وار نہیں  بلکہ جسم ہی قصور وار ہے۔) جسم کہے گا: یارب! تو نے مجھے لکڑی کی طرح پیدا کیا، نہ میرا ہاتھ پکڑسکتا تھا ، نہ پاؤں چل سکتا  تھا،نہ آنکھ دیکھ سکتی تھی، جب یہ روح نوری شعاع کی طرح آئی تو اس سے میری زبان بولنے لگی، آنکھ بینا ہوگئی اور پاؤں  چلنے لگے، (جو کچھ کیا اُس نے کیا ہے)  اللّٰہ  تعالیٰ ایک مثال بیان فرمائے گا کہ ایک اندھا اور ایک لنگڑا دونوں ایک باغ میں  گئے، اندھے کو توپھل نظر نہیں آتے تھے اور لنگڑے کا ہاتھ ان تک نہیں پہنچتا تھا تواندھے نے لنگڑے کو اپنے اوپر سوار کرلیا اس طرح انہوں نے پھل توڑے تو سزا کے وہ دونوں  مستحق ہوئے (اس لئے روح اور جسم دونوں ملز م ہیں ۔)  *(خازن، النحل، تحت الآیۃ  : ۱۱۱، ۳ / ۱۴۶)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-