حدیث پاک حجت بھی اور قرآن کی تفسیر بھی مگر قرآن کی مخالفت میں حجت نہیں اس لئے بد مذہب والے تفسیر پڑھتے نہیں اور گمراہ ہوتے ہیں قرآن حدیث ایک دوسرے کے مخالفت میں استعمال کرنا ایسے ہے جیسے اللہ اور رسول اللہ کے کلام کو مخالفت میں استعمال کرنا:-
*حدیث پاک حجت بھی اور قرآن کی تفسیر بھی مگر قرآن کی مخالفت میں حجت نہیں اس لئے بد مذہب والے تفسیر پڑھتے نہیں اور گمراہ ہوتے ہیں قرآن حدیث ایک دوسرے کے مخالفت میں استعمال کرنا ایسے ہے جیسے اللہ اور رسول اللہ کے کلام کو مخالفت میں استعمال کرنا:-
ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی تفسیر ’’ اَلْجَامِعُ لِاَحْکَامِ الْقُرْآنْ ‘‘ کی ابتدا میں فرماتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں موجود مُجمل چیزوں کو بیان کرنے، مشکل کی تفسیر کرنے اور کئی اِحتمال رکھنے والی چیزوں کی تحقیق کرنے کا منصب اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا فرمایا تاکہ رسالت کی تبلیغ کے ساتھ آپ کی یہ خصوصیت بھی ظاہر ہو جائے اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیَ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد قرآنِ پاک کے معانی کو اَخذ کرنے اور قرآنِ پاک کے اصول کی طرف اشارہ کرنے کی خدمت علماء کے سپرد فرمائی تاکہ وہ قرآنِ پاک کے الفاظ میں غورو فکرکر کے ان کی مراد جان جائیں ،یوں علماء دیگر امتیوں سے ممتاز ہو گئے اور اِجتہاد کا ثواب ملنے کی خصوصیت بھی انہیں حاصل ہوئی، خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ پاک اصل ہے اور حدیثِ پاک اس کا بیان ہے اور علماء کا اِستنباط اس کی وضاحت ہے۔ *(قرطبی، خطبۃ المصنّف ، ۱ / ۲۴، الجزء الاوّل)*
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہو اکہ قرآنِ پاک کی طرح حدیث پاک بھی معتبر، قابلِ قبول اور لائقِ عمل ہے کیونکہ اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قرآنِ پاک میں موجود احکام وغیرہ کو اپنے اقوال اور افعال کے ذریعے لوگوں سے بیان کرنے کا منصب عطا فرمایا ہے اور حدیث نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَقوال اور اَفعال ہی کا تو نام ہے ۔اس کے علاوہ اور آیات بھی حدیثِ پاک کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہیں ،جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ *(سورۂ جمعہ :۲)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللّٰہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتا ہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
اس آیت کے علاوہ بکثرت آیات ایسی ہیں جن میں اللّٰہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم مانا جائے یہاں تک کہ واضح طور فرما دیا کہ’’ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ *(النسا ء :۶۴ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* :اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللّٰہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔
اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت اسی صورت ممکن ہے جب ان کے قول اور فعل کی پیروی کی جائے ، اگر یوں نہ کیا جائے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بِعثَت کا جو مقصد ہے وہی فوت ہو جائے گا۔
اور ارشاد فرمایا وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ *(حشر :۷ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اور رسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللّٰہ سے ڈرو بیشک اللّٰہ سخت عذاب دینے والاہے۔
عقلی طور پر بھی دیکھا جائے تو حدیثِ پاک کو حجت مانے بغیر چارہ ہی نہیں کیونکہ قرآنِ پاک میں اسلام کے بنیادی اَحکام جیسے نماز ،روزہ ،حج اور زکوٰۃ کا اِجمالی بیان کیا گیا ہے ، ان پر عمل اسی صورت ممکن ہے جب حدیث پاک پر عمل کیا جائے کیونکہ ان تمام احکام کی تفصیل کا بیان صرف اَحادیث میں ہے۔
ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی تفسیر ’’ اَلْجَامِعُ لِاَحْکَامِ الْقُرْآنْ ‘‘ کی ابتدا میں فرماتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں موجود مُجمل چیزوں کو بیان کرنے، مشکل کی تفسیر کرنے اور کئی اِحتمال رکھنے والی چیزوں کی تحقیق کرنے کا منصب اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا فرمایا تاکہ رسالت کی تبلیغ کے ساتھ آپ کی یہ خصوصیت بھی ظاہر ہو جائے اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیَ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد قرآنِ پاک کے معانی کو اَخذ کرنے اور قرآنِ پاک کے اصول کی طرف اشارہ کرنے کی خدمت علماء کے سپرد فرمائی تاکہ وہ قرآنِ پاک کے الفاظ میں غورو فکرکر کے ان کی مراد جان جائیں ،یوں علماء دیگر امتیوں سے ممتاز ہو گئے اور اِجتہاد کا ثواب ملنے کی خصوصیت بھی انہیں حاصل ہوئی، خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ پاک اصل ہے اور حدیثِ پاک اس کا بیان ہے اور علماء کا اِستنباط اس کی وضاحت ہے۔ *(قرطبی، خطبۃ المصنّف ، ۱ / ۲۴، الجزء الاوّل)*
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہو اکہ قرآنِ پاک کی طرح حدیث پاک بھی معتبر، قابلِ قبول اور لائقِ عمل ہے کیونکہ اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قرآنِ پاک میں موجود احکام وغیرہ کو اپنے اقوال اور افعال کے ذریعے لوگوں سے بیان کرنے کا منصب عطا فرمایا ہے اور حدیث نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَقوال اور اَفعال ہی کا تو نام ہے ۔اس کے علاوہ اور آیات بھی حدیثِ پاک کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہیں ،جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ *(سورۂ جمعہ :۲)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللّٰہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتا ہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
اس آیت کے علاوہ بکثرت آیات ایسی ہیں جن میں اللّٰہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم مانا جائے یہاں تک کہ واضح طور فرما دیا کہ’’ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ *(النسا ء :۶۴ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* :اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللّٰہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔
اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت اسی صورت ممکن ہے جب ان کے قول اور فعل کی پیروی کی جائے ، اگر یوں نہ کیا جائے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بِعثَت کا جو مقصد ہے وہی فوت ہو جائے گا۔
اور ارشاد فرمایا وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ *(حشر :۷ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اور رسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللّٰہ سے ڈرو بیشک اللّٰہ سخت عذاب دینے والاہے۔
عقلی طور پر بھی دیکھا جائے تو حدیثِ پاک کو حجت مانے بغیر چارہ ہی نہیں کیونکہ قرآنِ پاک میں اسلام کے بنیادی اَحکام جیسے نماز ،روزہ ،حج اور زکوٰۃ کا اِجمالی بیان کیا گیا ہے ، ان پر عمل اسی صورت ممکن ہے جب حدیث پاک پر عمل کیا جائے کیونکہ ان تمام احکام کی تفصیل کا بیان صرف اَحادیث میں ہے۔
Comments
Post a Comment