بچھو کے نقصان سے بچنے کے لئے کہو تمام جہاں کے نوح پر سلام ہو حضور ﷺ پر سلام پر اعترض کرنے والوں کے لئے جہنم کے بچھو ہیں
بچھو کے نقصان سے بچنے کے لئے کہو تمام جہاں کے نوح پر سلام ہو حضور ﷺ پر سلام پر اعترض کرنے والوں کے لئے جہنم کے بچھو ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور اُبلنے لگا تو ہم نے فرمایا: ہر جنس میں سے (نر اور مادہ کا) ایک ایک جوڑا اور جن پر ( عذاب کی ) بات پہلے طے ہوچکی ہے ان کے سوا اپنے گھروالوں کو اور اہلِ ایمان کو کشتی میں سوار کرلو اور ان کے ساتھ تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے تھے۔ *(سورۃ ھود آیت نمبر 40)*
(1) ہر جنس میں سے نر اور مادہ کا ایک ایک جوڑا۔ حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے ساتھ ان تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کر لیا جو بچے جنتے ہوں یا انڈے دیتے ہوں ، البتہ جو مٹی سے پیدا ہوتے ہیں جیسے مچھر وغیرہ ان میں سے کسی کو سوار نہ کیا۔‘‘ جانور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آتے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دایاں ہاتھ نرپر اور بایاں مادہ پر پڑتا تھا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سوار کرتے جاتے تھے۔ بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ سانپ اور بچھو نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ سوار کر لیں۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: تمہاری وجہ سے ہم کہیں مصیبت کا شکار نہ ہوجائیں اس لئے میں تمہیں سوار نہیں کروں گا۔ انہوں نے عرض کی: آپ ہمیں سوار کر لیں ،ہم آپ کو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ جو آپ کا ذکر کرے گا ہم اسے کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے۔ لہٰذا جسے سانپ اور بچھو سے نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو وہ یہ آیت پڑھ لے ’’ سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ *(الصافات: ۷۹ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : تمام جہان والوں میں نوح پر سلام ہو۔
اسے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ سانپ اور بچھو سے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔
(2) حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اہلِ خانہ، یہ کل سات افراد تھے، حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، ان کے تین بیٹے سام، حام، یافث اور ان تینوں کی بیویاں۔ جن پر بات پہلے طے ہو چکی، ان سے مراد حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی واعلہ ہے جو ایمان نہ لائی تھی اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بیٹا کنعان ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کا بھی فیصلہ فرما دیا۔
(3) وہ لوگ جو حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے۔یہ کل 80 اَفراد تھے۔ ان کی تعداد کے بارے میں اور بھی اَقوال ہیں ، صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ اُن کی تعداد کسی صحیح حدیث میں وارد نہیں ہے ۔ *(صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ۳ / ۹۱۲-۹۱۳ ، تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ۶ / ۳۴۷-۳۴۸ ، ملتقطاً )*
ترجمۂ کنز العرفان
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور اُبلنے لگا تو ہم نے فرمایا: ہر جنس میں سے (نر اور مادہ کا) ایک ایک جوڑا اور جن پر ( عذاب کی ) بات پہلے طے ہوچکی ہے ان کے سوا اپنے گھروالوں کو اور اہلِ ایمان کو کشتی میں سوار کرلو اور ان کے ساتھ تھوڑے لوگ ہی ایمان لائے تھے۔ *(سورۃ ھود آیت نمبر 40)*
(1) ہر جنس میں سے نر اور مادہ کا ایک ایک جوڑا۔ حضرت حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے ساتھ ان تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کر لیا جو بچے جنتے ہوں یا انڈے دیتے ہوں ، البتہ جو مٹی سے پیدا ہوتے ہیں جیسے مچھر وغیرہ ان میں سے کسی کو سوار نہ کیا۔‘‘ جانور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آتے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا دایاں ہاتھ نرپر اور بایاں مادہ پر پڑتا تھا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سوار کرتے جاتے تھے۔ بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ سانپ اور بچھو نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ سوار کر لیں۔ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: تمہاری وجہ سے ہم کہیں مصیبت کا شکار نہ ہوجائیں اس لئے میں تمہیں سوار نہیں کروں گا۔ انہوں نے عرض کی: آپ ہمیں سوار کر لیں ،ہم آپ کو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ جو آپ کا ذکر کرے گا ہم اسے کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے۔ لہٰذا جسے سانپ اور بچھو سے نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو وہ یہ آیت پڑھ لے ’’ سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ *(الصافات: ۷۹ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : تمام جہان والوں میں نوح پر سلام ہو۔
اسے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ سانپ اور بچھو سے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔
(2) حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اہلِ خانہ، یہ کل سات افراد تھے، حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، ان کے تین بیٹے سام، حام، یافث اور ان تینوں کی بیویاں۔ جن پر بات پہلے طے ہو چکی، ان سے مراد حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی واعلہ ہے جو ایمان نہ لائی تھی اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بیٹا کنعان ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کا بھی فیصلہ فرما دیا۔
(3) وہ لوگ جو حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے۔یہ کل 80 اَفراد تھے۔ ان کی تعداد کے بارے میں اور بھی اَقوال ہیں ، صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ اُن کی تعداد کسی صحیح حدیث میں وارد نہیں ہے ۔ *(صاوی، ہود، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ۳ / ۹۱۲-۹۱۳ ، تفسیرکبیر، ہود، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ۶ / ۳۴۷-۳۴۸ ، ملتقطاً )*
Comments
Post a Comment