کوئی منزل تک پہنچنے کی سب نشانی بتا دے تو کوئی بیوکوف ہی اعتراض کریگا اس کو منزل کا علم نہیں ایسے ہی حضور ﷺ کو قیامت کے وقت بھی علم ہیں علم کے انکار میں حکمت ہیں فتنوں کے زمانے میں ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بد مذہب والوں سے لا تعلق رہنے میں ہیں

*کوئی منزل تک پہنچنے کی سب نشانی بتا دے  تو کوئی بیوکوف ہی اعتراض  کریگا اس کو منزل کا علم نہیں ایسے ہی حضور ﷺ کو قیامت کے وقت بھی علم ہیں علم کے انکار میں حکمت ہیں فتنوں کے زمانے میں  ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بد مذہب والوں سے لا تعلق رہنے میں ہیں :-* 
 فتنوں  کے زمانہ میں  خلقت سے علیحدگی اپنے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ احادیث ِ مبارکہ میں  بھی یہی فرمایا گیا ہے چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،  رسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا ’’ عنقریب مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر یہ پہاڑ کی چوٹیوں  اور برساتی مقامات پر چلا جائے گا کیونکہ وہ اپنے دین کو بچانے کی خاطر فتنوں سے بھاگ رہا ہوگا۔ *(بخاری، کتاب الفتن، باب التعرّب فی الفتنۃ، ۴ / ۴۳۹، الحدیث : ۷۰۸۸ )* 
حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا’’ عنقریب فتنے کھڑے ہوں گے جن میں     بیٹھا ہوا شخص کھڑے سے اچھا رہے گا اور کھڑا ہوا چلنے والے سے اچھا رہے گا۔ اور چلنے والا دوڑنے والے سے اچھا رہے گا۔ جو اس  (فتنے)  کی طرف جھانکے گا تو وہ اسے بھی اپنی لپیٹ میں  لے لے گا۔ ان دنوں  جس کو بچاؤ کی کوئی جگہ یا پناہ گاہ ملے تو ا سے اس میں  پناہ لے لینی چاہئے۔   *(بخاری، کتاب الفتن، باب تکون فتنۃ القاعد فیہا خیر من القائم   ، ۴ / ۴۳۶،    الحدیث : ۷۰۸۲ )* 
حضرت ابوبکرہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’عنقریب فتنے ہوں  گے ، خبردار پھر فتنے ہوں     گے ، پھر وہ فتنے ہوں  گے کہ ان میں  بیٹھا ہوا چلتے ہوئے سے بہتر ہوگا اور چلتا ہوا دوڑتے ہوئے سے بہتر ہوگا۔ آگاہ رہو کہ جب وہ فتنے واقع ہوں  تو جس کے پاس اونٹ ہوں  وہ اونٹوں سے مل جائے اور جس کے پاس بکریاں ہوں  وہ اپنی بکریوں  میں  چلا جائے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں  پہنچ جائے   ۔ یہ سن کر ایک صحابی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے عرض کی:  یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ، جس کے پاس اونٹ ، بکریاں  اور زمین نہ ہو تو وہ کیا کرے ۔ ارشاد فرمایا ’’ وہ اپنی تلوار کی طرف رخ کرے اور اس کی دھار کو پتھر سے کوٹ دے ،پھر اگر الگ ہونے کی طاقت رکھے تو الگ ہو جائے۔ (یعنی اپنی تلوار توڑ دے تاکہ باہمی جنگ و جدال میں  حصہ ہی نہ لے سکے۔)   *(مشکاۃ، کتاب الفتن، الفصل الاول، ۲ / ۲۷۹،  الحدیث : ۵۳۸۵ )* 
 *بارگاہِ الٰہی کے مقبول بندے تَقیہ نہیں  کرتے:* 
{   وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ   : اور جب تم ان لوگوں سے جدا ہوجاؤ۔}  یہاں سے جو کلام ہے یہ ان حضرات کا آپس میں تھا ۔ انہوں  نے ایک دوسرے سے کہا کہ اس کافر قوم میں  نہ رہو بلکہ ان سے جدا ہوجاؤ اورجا کر کہیں  کسی گوشہ میں  چھپ جاؤ، جہاں ان کے فتنہ سے بچ کر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کیا کریں ۔ ہم کو امید ہے کہ    اللّٰہ    تعالیٰ ہمیں  گوشۂ عافیت ضرور دے گا۔   *(مدارک، الکھف، تحت الآیۃ : ۱۶، ص۶۴۴، ملخصاً)*
 اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مقبولانِ بارگاہ ِ الٰہی تقیہ نہیں  کرتے جیسے اصحاب ِ کہف نے علاقہ چھوڑ دیا لیکن تقیہ نہ کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-