تہجد کے فضائل میں حضور ﷺ نے قیامت اور جنت کے حالات بیان کیے اس کے بعد بھی لوگ علم غیب پر اعتراض کرتے ہیں ان کے لئے کسی بھی عبادت کی کوئی فضیلت نہیں ہیں اس لئے کے سب غیب کی خبر ہیں

تہجد کے فضائل میں حضور ﷺ نے قیامت اور جنت کے حالات بیان کیے اس کے بعد بھی لوگ علم غیب  پر اعتراض  کرتے ہیں ان کے لئے کسی بھی عبادت کی کوئی فضیلت نہیں ہیں اس لئے کے سب غیب کی خبر ہیں :-*
(1) حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،  رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’رات میں  قیام کو اپنے اوپر لازم کر لو کہ یہ اگلے نیک لوگوں  کا طریقہ ہے اور تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف قربت کا ذریعہ اور گناہوں کو مٹانے والا اور گناہ سے روکنے والا ہے۔  *(ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی دعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۵ / ۳۲۳ الحدیث: ۳۵۶۰)*   
(2) حضرت اسماء بنتِ یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ،حضورِ اقدس           صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ قیامت کے دن لوگ ایک میدان میں  جمع کیے جائیں  گے، اس وقت منادی پکارے گا، کہاں  ہیں وہ جن کی کروٹیں  خواب گاہوں  سے جدا ہوتی تھیں ؟ وہ لوگ کھڑے ہوں  گے اور تھوڑے ہوں  گے یہ جنت میں  بغیر حساب داخل ہوں  گے پھر اور لوگوں  کے لیے حساب کا حکم ہوگا۔ *(شعب الایمان، باب الحادی والعشرون من شعب الایمان۔ الخ، تحسین الصلاۃ والاکثار منہا لیلاً ونہاراً۔ الخ ،۳ / ۱۶۹ ، الحدیث: ۳۲۴۴)*   
(3) حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے، حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : ’’جنت میں  ایک بالا خانہ ہے کہ باہر کا اندر سے دکھائی دیتا ہے اور اندر کا باہر سے۔ حضرت ابو مالک اشعری  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی، یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، وہ کس کے لیے ہے؟ ارشاد فرمایا ’’اُس کے لیے جو اچھی بات کرے اور کھانا کھلائے اور رات میں  قیام کرے جب لوگ سوتے ہوں ۔ *(مستدرک، من کتاب صلاۃ التطوّع، صلاۃ الحاجۃ ، ۱ / ۶۳۱ ، الحدیث: ۱۲۴۰)*   
(4) حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص رات میں بیدار ہو اور اپنے اہلِ خانہ کو جگائے پھر دونوں  دو دو رکعت پڑھیں  تو کثرت سے یاد کرنے والوں  میں  لکھے جائیں  گے۔ *(مستدرک، من کتاب صلاۃ التطوّع، تودیع المنزل برکعتین ، ۱ / ۶۲۴ ، الحدیث: ۱۲۳۰ )*   
(5) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میں  نے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، مجھے کوئی ایسا کام ارشاد فرمائیے جسے میں  اختیار کرو ں تو جنت میں  داخل ہو جاؤں ۔ ارشاد فرمایا ’’سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں  سے نیک سلوک کرو، رات میں  نماز پڑھو جب لوگ سوتے ہوں توسلامتی کے ساتھ جنت میں  داخل ہو جاؤ گے۔ *(مستدرک، کتاب الاطعمۃ، فضیلۃ اطعام الطعام، ۵ / ۱۷۹، الحدیث: ۷۲۵۶)*   
 *تہجد سے متعلق چند مسائل:*   
یہاں  نمازِ تہجد کے بارے میں  چند شرعی مسائل یاد رکھیں :- 
(1)  صَلَاۃُ اللَّیْل کی ایک قسم تہجد ہے کہ عشا کی نماز کے بعد رات میں  سو کر اُٹھیں اور نوافل پڑھیں ، سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں  وہ تہجد نہیں ۔   
(2) تہجد نفل کا نام ہے اگر کوئی عشا کے بعد سو گیا پھر اٹھ کر قضا نماز پڑھی تو اُس کو تہجد نہ کہیں  گے۔   
(3) کم سے کم تہجد کی دو رکعتیں  ہیں  اور  حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے آٹھ تک ثابت ہیں ۔   
(4) جو شخص تہجد کا عادی ہو بلا عذر اُسے تہجد چھوڑنا مکروہ ہے کہ صحیح بخاری کی حدیث میں  ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا      سے ارشاد فرمایا: ’’اے  عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ، تو فلاں  کی طرح نہ ہونا کہ رات میں  اُٹھا کرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔  *(بخاری، کتاب التہجد، باب ما یکرہ من ترک قیام اللیل لمن کان یقومہ ، ۱ / ۳۹۰، الحدیث: ۱۱۵۲)* 

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے