اللہ تعالیٰ کی عطا سے فرشتوں کو اور انبیاء کرام کو علم غیب ہوتا انکار کرنے والا قرآن کی بہت سی آیات کے ساتھ کفر کرتا ہیں ماں کے پیٹ میں کیا ہے یہ فرستے اور انبیاء کرام بھی جانتے ہیں
اللہ تعالیٰ کی عطا سے فرشتوں کو اور انبیاء کرام کو علم غیب ہوتا انکار کرنے والا قرآن کی بہت سی آیات کے ساتھ کفر کرتا ہیں ماں کے پیٹ میں کیا ہے یہ فرستے اور انبیاء کرام بھی جانتے ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
انہوں نے عرض کیا: آپ نہ ڈریں ، بیشک ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔ *(سورۃ الحجر آیت نمبر 53)*
تفسیر صراط الجنان
{ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ : بیشک ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔} علم والے لڑکے سے مراد حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔ *(خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳ / ۱۰۴ )*
*فرشتوں کا علم:*
اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے بتانے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا اور وہ علم والا اور نبی ہو گا۔ معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں میں سے جسے چاہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے۔
*اولاد کو علمِ دین سکھائیے:*
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالِم بیٹا اللّٰہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔اس میں ہر مسلمان کے لئے نصیحت ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دین کاعلم بھی سکھائے اور اس علم کو سکھانے میں اُس سے زیادہ توجہ دے جتنی دنیا کا علم سکھانے پر توجہ دیتا ہے۔ افسوس فی زمانہ مسلمان دین کا علم حاصل کی ہوئی اولاد جیسی عظیم نعمت کی قدر اور اہمیت کی طرف توجہ نہیں دیتے اور اپنے بیٹوں میں سے جسے ہوشیار و ذہین دیکھتے ہیں اسے دنیا کی تعلیم دلواتے ، اس کے لئے ماہر اساتذہ اور اونچے درجے کے سکول کا انتخاب کرتے ہیں اور دن رات دنیوی علوم و فنون میں اس کی ترقی کے لئے کوششیں کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں اسے دلوائی گئی دینی تعلیم کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسے ان عقائد کا علم نہیں ہوتا جن پر مسلمان کے دین و ایمان اور اُخروی نجات کا دارومدار ہے، مسلمان کی اولاد ہونے کے باوجود اسے قرآنِ مجید تک صحیح پڑھنا نہیں آتا، فرض عبادات سے متعلق بنیادی باتیں نہیں جانتا، نماز روزے اورحج زکوٰۃ کی ادائیگی ٹھیک طرح نہیں کر پاتا اور یہی وجہ ہے کہ صرف دنیوی علوم و فنون میں مہارت رکھنے والے اکثر دینِ اسلام ہی سے بیزار اور اس کے بنیادی احکام پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے نظر آتے ہیں ۔یہ تو ہوشیار و ذہین بیٹے کے ساتھ طرزِ عمل ہے جبکہ اس کے برعکس جو بیٹا جسمانی معذوری یا ذہنی کمزوری کا شکار ہو اسے دنیا کی تعلیم دلوانے کی طرف توجہ کرنے اور اس پر اپنا مال خرچ کرنے کو بیکار اور فضول کام سمجھتے ہیں اور اسے کسی دینی مدرسے میں داخل کروا کے اپنے سر سے بوجھ اتار دیتے ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت نصیب فرمائے،اٰمین۔
ترجمۂ کنز العرفان
انہوں نے عرض کیا: آپ نہ ڈریں ، بیشک ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔ *(سورۃ الحجر آیت نمبر 53)*
تفسیر صراط الجنان
{ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ : بیشک ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔} علم والے لڑکے سے مراد حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔ *(خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳ / ۱۰۴ )*
*فرشتوں کا علم:*
اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے بتانے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا اور وہ علم والا اور نبی ہو گا۔ معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں میں سے جسے چاہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے۔
*اولاد کو علمِ دین سکھائیے:*
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالِم بیٹا اللّٰہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔اس میں ہر مسلمان کے لئے نصیحت ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دین کاعلم بھی سکھائے اور اس علم کو سکھانے میں اُس سے زیادہ توجہ دے جتنی دنیا کا علم سکھانے پر توجہ دیتا ہے۔ افسوس فی زمانہ مسلمان دین کا علم حاصل کی ہوئی اولاد جیسی عظیم نعمت کی قدر اور اہمیت کی طرف توجہ نہیں دیتے اور اپنے بیٹوں میں سے جسے ہوشیار و ذہین دیکھتے ہیں اسے دنیا کی تعلیم دلواتے ، اس کے لئے ماہر اساتذہ اور اونچے درجے کے سکول کا انتخاب کرتے ہیں اور دن رات دنیوی علوم و فنون میں اس کی ترقی کے لئے کوششیں کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں اسے دلوائی گئی دینی تعلیم کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسے ان عقائد کا علم نہیں ہوتا جن پر مسلمان کے دین و ایمان اور اُخروی نجات کا دارومدار ہے، مسلمان کی اولاد ہونے کے باوجود اسے قرآنِ مجید تک صحیح پڑھنا نہیں آتا، فرض عبادات سے متعلق بنیادی باتیں نہیں جانتا، نماز روزے اورحج زکوٰۃ کی ادائیگی ٹھیک طرح نہیں کر پاتا اور یہی وجہ ہے کہ صرف دنیوی علوم و فنون میں مہارت رکھنے والے اکثر دینِ اسلام ہی سے بیزار اور اس کے بنیادی احکام پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے نظر آتے ہیں ۔یہ تو ہوشیار و ذہین بیٹے کے ساتھ طرزِ عمل ہے جبکہ اس کے برعکس جو بیٹا جسمانی معذوری یا ذہنی کمزوری کا شکار ہو اسے دنیا کی تعلیم دلوانے کی طرف توجہ کرنے اور اس پر اپنا مال خرچ کرنے کو بیکار اور فضول کام سمجھتے ہیں اور اسے کسی دینی مدرسے میں داخل کروا کے اپنے سر سے بوجھ اتار دیتے ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت نصیب فرمائے،اٰمین۔
Comments
Post a Comment