حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ اور علم غیب ان کی قوم کی موت کب کہا اور کیسے ہوگی اور جو حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرے وہ جاہل بد مذہب ہیں

حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا معجزہ اور علم غیب ان کی قوم کی موت کب کہا اور کیسے ہوگی اور جو حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرے وہ جاہل بد مذہب ہیں :-*
  ترجمۂ کنز العرفان         
اور اے میری قوم ! یہ تمہارے لئے نشانی کے طور پر اللہ کی اونٹنی ہے تو اسے چھوڑ دو تاکہ یہ اللہ کی زمین میں کھاتی رہے اور اسے برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا ورنہ قریب کا عذاب تمہیں پکڑ لے گا۔تو انہوں نے اس کے پاؤں کی پچھلی جانب کے اوپر والی ٹانگوں کی رگیں کاٹ دیں تو صا لح نے فرمایا: تم اپنے گھرو ں میں تین دن مزید فائدہ اٹھالو۔ یہ ایک وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ *(سورۃ هود  آیت نمبر 64/65)*
 تفسیر صراط الجنان           
{ وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً :  اور  اے میری قوم!  یہ تمہارے لئے نشانی کے طور پر اللہ کی اونٹنی ہے۔} قومِ ثمود نے  حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے معجزہ طلب کیا تھا۔ آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے  اللہ  تعالیٰ سے دعا کی تو پتھر سے بحکمِ الٰہی اونٹنی پیدا ہوئی ، یہ اونٹنی ان کے لئے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی صداقت پر نشانی اور حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا معجزہ تھی۔ اس آیت میں اس اونٹنی کے متعلق اَحکام ارشاد فرمائے گئے کہ اسے زمین میں چرنے دو اور کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ ورنہ دنیا ہی میں گرفتار ِعذاب ہوجاؤگے اور مہلت نہ پاؤ گے۔ *(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۶۴ ، ۲ / ۳۶۰ ، ملخصاً )*
{ فَعَقَرُوْهَا  :  تو انہوں نے اس کے پاؤں کے اوپر ٹانگوں کی رگیں کاٹ دیں۔} قومِ ثمود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کی اور بدھ کے دن انہوں نے اس اونٹنی کی ایڑیوں کے اوپر ٹانگوں کی رگیں کاٹ دیں۔ اس کے بعد حضرت صالح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے ان سے فرمایا: اپنے گھروں میں تین دن یعنی  جمعہ تک جو کچھ دنیا کا عیش کرنا ہے کرلو، ہفتے کے دن تم پر عذاب آجائے گا اور اس کی علامت یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے ، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن یعنی جمعہ کو سیاہ ہو جائیں گے، پھر ہفتے کے دن عذاب نازل ہوگا۔یہ ایک وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا ، چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ *(خازن، ہود، تحت الآیۃ: ۶۵، ۲/ ۳۶۰ ، مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۶۵ ، ص ۵۰۴ ، ملتقطاً )*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-