حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا علم غیب
حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا علم غیب :-*
ترجمۂ کنز العرفان
پھروہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے کشتی کو چیر ڈالا۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم نے اسے اس لیے چیردیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔ کہا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ موسیٰ نے کہا: میری بھول پر میرا مواخذہ نہ کرو اور مجھے میرے کام کی طرف سے مشکل میں نہ ڈالو۔دونوں چلے یہاں تک کہ جب انہیں ایک لڑکا ملا تو اس نے اسے قتل کردیا۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان کوقتل کردیا۔ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔کہا: میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہرسکیں گے۔موسیٰ نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے ساتھی نہ رکھنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا ہے۔ پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس آئے تو اس بستی کے باشندوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پا ئی جو گرنا ہی چاہتی تھی تو اس نے اسے سیدھا کردیا، موسیٰ نے کہا: اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے۔کہا: یہ میری اور آپ کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں آپ کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔وہ جو کشتی تھی تو وہ کچھ مسکین لوگوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ لڑکا انہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا۔ تو ہم نے چاہا کہ اُن کا رب اُنہیں پاکیزگی میں پہلے سے بہتر اور حسنِ سلوک اوررحمت و شفقت میں زیادہ مہربان عطا کردے۔اور بہرحال دیوار (کا جہاں تک تعلق ہے) تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں (یہ سب ) آپ کے رب کی رحمت سے ہے اور یہ سب کچھ میں نے اپنے حکم سے نہیں کیا ۔ یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے جس پر آپ صبر نہ کرسکے۔
*(سورۃ الکہف آیت نمبر 71/82)*
ترجمۂ کنز العرفان
پھروہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے کشتی کو چیر ڈالا۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم نے اسے اس لیے چیردیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کردو، بیشک یہ تم نے بہت برا کام کیا۔ کہا: کیا میں نہ کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ موسیٰ نے کہا: میری بھول پر میرا مواخذہ نہ کرو اور مجھے میرے کام کی طرف سے مشکل میں نہ ڈالو۔دونوں چلے یہاں تک کہ جب انہیں ایک لڑکا ملا تو اس نے اسے قتل کردیا۔ موسیٰ نے کہا: کیا تم نے کسی جان کے بدلے کے بغیر ایک پاکیزہ جان کوقتل کردیا۔ بیشک تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا ہے۔کہا: میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہرسکیں گے۔موسیٰ نے کہا: اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ سے کسی شے کے بارے میں سوال کروں تو پھر مجھے ساتھی نہ رکھنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا ہے۔ پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس آئے تو اس بستی کے باشندوں سے کھانا مانگا، انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا پھر دونوں نے اس گاؤں میں ایک دیوار پا ئی جو گرنا ہی چاہتی تھی تو اس نے اسے سیدھا کردیا، موسیٰ نے کہا: اگر تم چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے لیتے۔کہا: یہ میری اور آپ کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں آپ کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔وہ جو کشتی تھی تو وہ کچھ مسکین لوگوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہرصحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ لڑکا انہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا۔ تو ہم نے چاہا کہ اُن کا رب اُنہیں پاکیزگی میں پہلے سے بہتر اور حسنِ سلوک اوررحمت و شفقت میں زیادہ مہربان عطا کردے۔اور بہرحال دیوار (کا جہاں تک تعلق ہے) تو وہ شہرکے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں (یہ سب ) آپ کے رب کی رحمت سے ہے اور یہ سب کچھ میں نے اپنے حکم سے نہیں کیا ۔ یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے جس پر آپ صبر نہ کرسکے۔
*(سورۃ الکہف آیت نمبر 71/82)*
Comments
Post a Comment