اور آپ ﷺ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور جس پر علم غیب کے منکر اعتراض کرتے ہیں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو روح کا علم بھی حاصل ہے جب منفی اور مثبت آیت ہو تو مثبت سے عقیدہ بنتا ہے منفی آیت پہلے کی ہوتی ہیں ایسا نہیں ہوتا کے علم دے کر واپس لیے لیا جائے

اور آپ ﷺ  کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور جس پر علم غیب کے منکر اعتراض کرتے ہیں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو روح کا علم  بھی حاصل ہے جب منفی اور مثبت آیت ہو تو مثبت سے عقیدہ بنتا ہے منفی آیت پہلے کی ہوتی ہیں ایسا نہیں ہوتا کے علم دے کر واپس لیے لیا جائے :-*
وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِؕ-قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا  ‘‘   
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اور تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ تم فرماؤ: روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے اور (اے لوگو!) تمہیں  بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
اِس آیت میں  بتا دیا گیا کہ روح کا معاملہ نہایت پوشیدہ ہے اور اس کے بارے میں  علمِ حقیقی سب کو حاصل نہیں  بلکہ اللّٰہ     عَزَّوَجَلَّ  جسے عطا فرمائے وہی اسے جان سکتا ہے جیسا کہ سرکارِ دوعالَم   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو اس کا علم عطا کیا گیا ، چنانچہ علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’ایک جماعت نے گمان کیا ہے کہ  اللّٰہ  تعالیٰ نے روح کا علم مخلوق پر مُبْہَم کر دیا اور اسے اپنی ذات کے لئے خاص کر دیا ہے، حتّٰی کہ انہوں  نے یہاں  تک کہہ دیا کہ نبی کریم   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   بھی روح کے بارے میں  علم نہیں  رکھتے حالانکہ   اللّٰہ   تعالیٰ کے حبیب   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا منصب و مقام اس سے بہت عظیم ہے کہ آپ کو بھی روح کا علم نہ ہو حالانکہ آپ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  عالِم بِاللّٰہ   ہیں  اور   اللّٰہ   تعالیٰ نے یہ ارشاد فرما کر آپ پر احسان فرمایا ہے کہ 
وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا  ‘‘  *(النساء  :۱۱۳)*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر  اللّٰہ  کافضل بہت بڑا ہے۔   
ان لوگوں  نے یہ گمان کیا ہے کہ روح کا علم ان علوم میں  سے ہے جو آپ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو   اللّٰہ   تعالیٰ نے نہیں  سکھائے، کیا انہیں  اس بات کی خبر نہیں  کہ   اللّٰہ   تعالیٰ نے آپ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو وہ سب کچھ سکھا دیا ہے جو آپ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نہیں  جانتے تھے۔  *(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ  :۸۵  ، ۵ / ۱۹۸)*   
اسی طرح علامہ بدر الدین عینی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ سیّد المرسَلین   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا منصب بہت بلند ہے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب اور اس کی مخلوق کے سردار ہیں ، اور یہ کیسے ہو سکتا ہے تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو روح کے بارے میں  علم نہ ہو حالانکہ اللّٰہ   تعالیٰ نے آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   پریہ ارشاد فرما کر احسان فرمایا ہے کہ اے حبیب!  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر   اللّٰہ کافضل بہت بڑا ہے۔  *( عمدۃ القاری، کتاب العلم، باب قول اللّٰہ تعالی: وما اوتیتم من العلم الاّ قلیلاً  ، ۲ / ۲۸۴، تحت الحدیث: ۱۲۵)*   
{  وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا  :  اور (اے لوگو!) تمہیں  بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔} علامہ اسماعیل حقی   رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فرماتے ہیں’’علمِ حادث علمِ قدیم کے مقابلے میں  تھوڑا ہے کیونکہ بندوں  کا علم مُتَناہی (یعنی اس کی ایک انتہا)   ہے اور   اللّٰہ  تعالیٰ کے علم کی کوئی انتہاء نہیں  اور متناہی علم غیر متناہی علم کے مقابلے میں  ایسا ہے جیسے اس عظیم سمندر کے مقابلے میں  ایک قطرہ ہو جس کی کوئی انتہا نہیں ۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں : اولیا ء   رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ  کا علم انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے علم کے مقابلے میں  ایسا ہے جیسے سات سمندروں کے مقابلے میں  ایک قطرہ ہو اور انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کا علم ہمارے نبی محمد مصطفٰی   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے مقابلے میں  ایسے ہے جیسے سات سمندروں  کے مقابلے میں  ایک قطرہ ہو اور ہمارے نبی  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا علم   اللّٰہ   تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں  ایسے ہے جیسے سات سمندروں  کے مقابلے میں  ایک قطرہ ہو تو وہ علم جو بندوں  کو دیا گیا ہے فی نَفْسِہٖ اگرچہ کثیر ہے لیکن   اللّٰہ   تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں  تھوڑا ہے۔  *(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ  :   ۸۵  ،   ۵ / ۱۹۷)*
 اللّٰہ  تعالیٰ کے علم سے متعلق صحیح بخاری شریف میں  ہے کہ جب حضرت موسیٰ اورحضرت خضر  عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کشتی میں  سوار ہوئے تو ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر ایک یا دو چونچیں  سمندر میں  ماریں ۔ حضرت خضر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے فرمایا ’’اے موسیٰ !  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، میرا اور آپ کا علم   اللّٰہ   تعالیٰ کے علم کے سامنے اس طرح ہے جیسے چڑیا کا سمندر میں  چونچ مارنا۔  *(بخاری، کتاب العلم، باب ما یستحبّ للعالم اذا سئل: ایّ الناس اعلم  ؟  الخ، ۱ / ۶۳  ، الحدیث:۱۲۲)*
یہ بھی سمجھانے کیلئے بیان کیا گیا ہے ورنہ متناہی اور غیر متناہی میں  کوئی نسبت ہی نہیں  ہوتی۔

Comments