اللہ‎ پاک نے حضور ﷺ کو جسم اور روح کے ساتھ معراج کرائی بندے کا الفاظ جسم روح کے ساتھ ہوتا صرف روح یا جسم کو بندہ نہیں کہتے جس نے یقین کیا اس کو صدیق کا لقب ملا انکار کرنے والے اب تک اپنے کفر پر قایم ہیں

اللہ‎ پاک نے حضور ﷺ کو جسم اور روح کے ساتھ معراج کرائی بندے کا الفاظ جسم روح کے ساتھ ہوتا صرف روح یا جسم کو بندہ نہیں کہتے جس نے یقین کیا اس کو صدیق کا لقب ملا انکار کرنے والے اب تک اپنے کفر پر قایم ہیں :-*
   ترجمۂ کنز العرفان           
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والاہے۔ *(سورۃ بنی اسرائیل  آیت نمبر 1)*
{سُبْحٰنَ الَّذِیْ :  پاک ہے وہ ذات۔} اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر کمزوری، عیب اور نقص سے خداوند ِ قدوس کی عظیم ذات پاک ہے جس نے اپنے خاص بندے یعنی             مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو شبِ معراج رات کے کچھ حصے میں مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تک سیر کرائی حالانکہ مسجد ِ اقصیٰ مکۂ مکرمہ سے تیس دن سے زیادہ کی مسافت پر ہے،  وہ مسجد ِاقصیٰ جس کے اردگرد ہم نے دینی و دُنْیَوی برکتیں  رکھی ہیں  اور  سیر کرانے کی حکمت یہ تھی کہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو اپنی عظمت اور قدرت کی عظیم نشانیاں دکھانا چاہتا تھا۔ روایت ہے کہ جب سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شب ِمعراج درجاتِ عالیہ اور مَراتبِ رفیعہ پر فائز ہوئے تو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے خطاب فرمایا ، اے محمد!       (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) یہ فضیلت و شرف میں  نے تمہیں کیوں  عطا فرمایا ؟ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے عرض کی :اس لئے کہ تو نے مجھے عَبْدِیَّت کے ساتھ اپنی طرف منسوب فرمایا۔ اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی۔ *(خازن، الاسراء، تحت الآیۃ : ۱، ۳ / ۱۵۳-۱۵۴، ملخصاً)*     
{ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ  : اپنے بندے کو سیر کرائی۔} آیت کے اس حصے میں  نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے معراج شریف کا تذکرہ ہے ۔ معراج شریف نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا ایک جلیل معجزہ اور  اللّٰہ  تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور اس سے حضورپُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وہ کمالِ قرب ظاہر ہوتا ہے جو مخلوقِ الٰہی میں  آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سوا کسی کو مُیَسَّر نہیں ۔ 
مکۂ مکرمہ سے حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا  بیتُ المقدس تک رات کے چھوٹے سے حصہ میں  تشریف لے جانا نصِ قرآنی سے ثابت ہے، اس کا منکر کافر ہے اور آسمانوں  کی سیر اور مَنازلِ قرب میں  پہنچنا اَحادیث ِصحیحہ مُعتمدہ مشہورہ سے ثابت ہے جو حدِ تَواتُر کے قریب پہنچ گئی ہیں ، اس کا منکر گمراہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے