تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی امّت کے عمال پر گواہ ہوتے ہیں کون کافر ہے کون مسلمان ہے یہ آیات تمام انبیاءِ کرام کے علم غیب کی دلیل ہے گواہی کے لئے مشاہدہ ضروری ہے
تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی امّت کے عمال پر گواہ ہوتے ہیں کون کافر ہے کون مسلمان ہے یہ آیات تمام انبیاءِ کرام کے علم غیب کی دلیل ہے گواہی کے لئے مشاہدہ ضروری ہے :-*
وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (۸۴)
*ترجمۂ کنز العرفان*
اور یاد کروجس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے رجوع کرنا،طلب کیا جائے گا۔ *(سورۃ النحل آیت نمبر 84)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ یَوْمَ نَبْعَثُ : اور یاد کروجس دن ہم اٹھائیں گے۔} اس سے پہلی آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں بیان فرمایا کہ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننے کے باوجود ان کا انکار کر دیا، اور یہ بھی بیان فرمایا کہ ان میں سے اکثر کافر ہیں جبکہ ان آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان کفار پر عذاب کی وعید اور قیامت کے دن ان کا جو حال ہو گا اسے بیان فرمایا آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت کے دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے جو اُن کی تصدیق و تکذیب اور ایمان و کفر کی گواہی دے گا اور یہ گواہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ، پھر کافروں کومعذرت کرنے کی یا کسی کلام کی یا دنیا کی طرف لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ اس دن انہیں اس بات کا مُکَلَّف کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کریں کیونکہ آخرت عمل کرنے کی جگہ نہیں ۔ *(خازن، النحل، تحت الآیۃ : ۸۴، ۳ / ۱۳۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ : ۸۴، ص۶۰۵، ملتقطاً )*
وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (۸۴)
*ترجمۂ کنز العرفان*
اور یاد کروجس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے رجوع کرنا،طلب کیا جائے گا۔ *(سورۃ النحل آیت نمبر 84)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ یَوْمَ نَبْعَثُ : اور یاد کروجس دن ہم اٹھائیں گے۔} اس سے پہلی آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں بیان فرمایا کہ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچاننے کے باوجود ان کا انکار کر دیا، اور یہ بھی بیان فرمایا کہ ان میں سے اکثر کافر ہیں جبکہ ان آیتوں میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان کفار پر عذاب کی وعید اور قیامت کے دن ان کا جو حال ہو گا اسے بیان فرمایا آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت کے دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے جو اُن کی تصدیق و تکذیب اور ایمان و کفر کی گواہی دے گا اور یہ گواہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ، پھر کافروں کومعذرت کرنے کی یا کسی کلام کی یا دنیا کی طرف لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ اس دن انہیں اس بات کا مُکَلَّف کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کریں کیونکہ آخرت عمل کرنے کی جگہ نہیں ۔ *(خازن، النحل، تحت الآیۃ : ۸۴، ۳ / ۱۳۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ : ۸۴، ص۶۰۵، ملتقطاً )*
Comments
Post a Comment