سجدہ تعظیمی کو جائز ثابت کرنے والوں کا رد سجدہ تعظیمی حرام ہیں جائز سمجھنے والے بھی گمراہ اس کو شرک سمجھنے والے بھی گمراہ ہیں

سجدہ تعظیمی کو جائز ثابت کرنے والوں  کا رد  سجدہ تعظیمی حرام ہیں جائز سمجھنے والے بھی گمراہ اس کو شرک سمجھنے والے بھی گمراہ ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان         
 *تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور میں اپنی طرف کی خاص معزز ر وح اس میں پھونک دوں تو اس کے لیے سجدے میں گر جانا۔*
  یاد رہے کہ یہ آیت اور اس سے اگلی آیت اس امت کے لوگوں  کے لئے سجدۂ تعظیمی کے جواز کی دلیل نہیں  بن سکتی، چنانچہ جو لوگ سجدۂ تعظیمی کو حضرت آدم اور حضرت یوسف  عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی شریعت کا حکم بتا کر اس کا جائز ہونا ثابت کرتے ہیں ، ان کا رد کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت  امام احمد رضا خان  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’ سرے سے اس کا آدم یا یوسف یا کسی نبی عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی شریعت ہونے ہی کاثبوت دے ، اور ہر گز نہ دے سکے گا، آدم  عَلَیْہِ السَّلَام  کی آفرنیش سے پہلے رب  عَزَّوَجَلَّ  نے یہ حکم ملائکہ کو دیا تھا:  فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ     
’’جب میں  اسے ٹھیک بنالوں  اور اس میں  اپنی طرف کی ر وح پھونک دوں  اس وقت تم اس کے لیے سجدہ میں  گرنا۔‘‘   
تو اس وقت نہ کوئی نبی تشریف لایا تھا نہ کوئی شریعت اتری۔ ملائکہ و بشر کے احکام جدا ہیں  ،جو حکم فرشتوں کو دیا گیا وہ شریعت  مِنْ قَبْلِنَا  نہیں ۔ قصۂ یوسف  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے اتنا ثابت کہ شریعتِ یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  میں  سجدۂ تحیت کی ممانعت نہ تھی کہ انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  فعلِ ممنوع نہیں  کرتے، ممانعت نہ ہونا دونوں  طرح ہوتاہے یا تو ان کی شریعت میں  اس کے جوازکا حکم ہویہ اباحتِ شرعیہ ہوگی کہ حکمِ شرعی ہے یا ان کی شریعت میں  اس کا کچھ ذکر نہ آیا ہو تو جو فعل جب تک شرع منع نہ فرمائے مباح ہے، یہ اباحتِ اصلیہ ہوگی کہ حکمِ شرعی نہیں  بلکہ عدمِ حکم ہے۔ اور جب دونوں  صورتیں       محتمل تو ہر گز ثابت نہیں کہ شریعتِ یعقوبیہ میں  اس کی نسبت کوئی حکم تھا تو شریعت مِنْ قَبْلِنَا  ہونا کب ثابت، بحمدہٖ تعالیٰ شبہ کا اصل معنی ہی ساقط۔     *(فتاویٰ رضویہ، ۲۲ / ۵۲۰ )*   
 نیز مفتی احمد یار خان  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’فرشتوں  کا یہ سجدہ                 آدم  عَلَیْہِ السَّلَام  کی شریعت کا حکم نہ تھا کیونکہ ابھی  آدم  عَلَیْہِ السَّلَام  کی شریعت آئی ہی نہ تھی، نیز اَحکامِ شرعیہ انسانوں کے لئے ہوتے ہیں  نہ کہ فرشتوں  کے لئے، نیز  صرف ایک بار ہی فرشتوں       نے یہ سجدہ کیا ہر دفعہ سجدہ نہ ہوا، لہٰذا اس آیت سے سجدۂ تعظیمی کے جواز پر دلیل پکڑنا جائز نہیں۔ *(نور العرفان، الحجر، تحت الآیۃ: ۲۹، ص ۴۱۹-۴۲۰ )*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے