یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہنے والے ہر صحابی کا یہی عقیدہ تھا اللہ‎ رسول جانتے ہے اس لئے کے وہ وہابی نہیں تھے* *وہابی تو حدیث بھی یا رسول اللہ‎ کو چھوڈ کر پڑھتے ہونگے* *مہاجر صحابۂ کرا م رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے فضائل:*

یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہنے والے ہر صحابی کا یہی عقیدہ تھا اللہ‎ رسول جانتے ہے اس لئے کے وہ وہابی نہیں تھے* *وہابی تو حدیث بھی یا رسول اللہ‎ کو چھوڈ کر پڑھتے ہونگے*
 *مہاجر صحابۂ کرا م  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کے فضائل:* 
  ترجمۂ کنز العرفان       
 *اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا تو ہم ضرور انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے۔ کسی طرح لوگ جانتے ۔*
اس آیت سے معلوم ہو اکہ ہجرت کرنے والے صحابۂ کرام   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  بڑی فضیلت والے ہیں  اول تو یوں  کہ ان کے لئے بڑے اجر کا وعدہ ہے اور دوسرا یوں  کہ ان کے خالصتاً رضائے الٰہی کیلئے ہجرت کرنے کی گواہی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   نے خود دی ہے۔ قرآنِ مجید کی  اور آیات سے بھی ہجرت کرنے  والے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی فضیلت معلوم  ہوتی ہے ، چنانچہ ایک مقام پر  اللّٰہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے    فَالَّذِیْنَ  هَاجَرُوْا  وَ  اُخْرِجُوْا  مِنْ  دِیَارِهِمْ  وَ  اُوْذُوْا  فِیْ  سَبِیْلِیْ  وَ  قٰتَلُوْا  وَ  قُتِلُوْا  لَاُكَفِّرَنَّ  عَنْهُمْ  سَیِّاٰتِهِمْ  وَ  لَاُدْخِلَنَّهُمْ  جَنّٰتٍ  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا  مِّنْ  عِنْدِ  اللّٰهِؕ-وَ  اللّٰهُ  عِنْدَهٗ  حُسْنُ  الثَّوَابِ *(اٰلِ عمران:۱۹۵)*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان* : پس جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں  سے نکالے گئے اور میری راہ میں  انہیں  ستایا گیا اور انہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں  ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹا دوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں      داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں  جاری ہیں (یہ) اللّٰہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللّٰہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔   
اور ارشاد فرماتا ہے:  اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْۙ -اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ    ‘ *(توبہ:۲۰)*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان* :وہ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللّٰہ کی راہ میں  جہاد کیا اللّٰہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں ۔   
 اور ارشاد فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ  *(حشر:۸)*   
 *ترجمہکنزُالعِرفان*   : ان فقیر مہاجروں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اس حال میں کہ اللّٰہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اللّٰہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں ،وہی سچے ہیں ۔   
اسی طرح اَحادیث سے بھی ہجرت کرنے والے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ     کے فضائل ظاہر ہیں ، چنانچہ حضرت  عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا     فرماتے ہیں :تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مجھ سے ارشاد     فرمایا ’’  کیا تم میری امت کے اس گروہ کو جانتے ہو جوسب سے پہلے جنت میں      داخل ہو گا؟ میں  نے عرض کی : اللّٰہ تعالیٰ اور  اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بہتر جانتے ہیں ۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن مہاجرین جنت کے دروازے کے پاس آ کر اسے کھلوانا چاہیں گے تو جنت کے خازن ان سے کہیں  گے: کیا آپ سے حساب لے لیا گیا ہے؟ وہ کہیں  گے :ہم سے کس چیز کا حساب لیا جائے گا حالانکہ اللّٰہ  تعالیٰ کی راہ میں  ہماری تلواریں  ہمارے کندھوں  پر تھیں  حتّٰی کہ اسی حال میں ہمارا انتقال ہو گیا۔ حضورِ اقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     فرماتے ہیں کہ ’’ان کے لئے (جنت کا دروازہ ) کھول دیاجائے گا تو وہ دوسرے لوگوں کے جنت میں  داخل ہونے سے پہلے 40 سال تک جنت میں   قیلولہ کریں      گے *۔(مستدرک، کتاب الجہاد، اوّل زمرۃ تدخل الجنّۃ المہاجرون، ۲ / ۳۸۷،     الحدیث: ۲۴۳۶)*
حضرت عبداللّٰہ بن عمرو  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں :ہم ایک دوسرے دن تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اس وقت حاضر تھے جب سورج طلوع ہوا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’عنقریب قیامت کے دن کچھ لوگ آئیں گے جن کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہو گا۔ ہم نے عرض کی :  یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   وہ کون لوگ ہوں  گے؟ ارشاد فرمایا ’’فُقراء مہاجرین جن کے صدقے ناپسندیدہ چیزوں  سے بچا جاتا ہے، ان میں سے کسی کا انتقال اس حال میں      ہوتا ہے کہ اس کی حاجت اس کے سینے میں  ہی رہتی ہے (یعنی پوری نہیں      ہوتی اور حاجت مند ہی فوت ہوجاتا ہے)  وہ زمین کے کناروں  سے جمع کئے جائیں گے۔ *(مسند امام احمد، مسند عبد  اللّٰہ بن عمرو بن العاص رضی اللّٰہ تعالی عنہما ، ۲ / ۵۹۱،  الحدیث : ۶۶۶۲ )*

Comments