کاہن اگر بیٹے کی خبر دے تو کوئی حرج نہیں اگر اولیا اللہ‎ یا انبیاء کرام کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھے تو بد مذہب والوں کو مرچی لگتی ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کل کیا ہوگا

کاہن اگر بیٹے کی خبر دے تو کوئی حرج نہیں  اگر اولیا اللہ‎ یا انبیاء کرام کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھے تو بد مذہب والوں کو مرچی لگتی ہیں اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کل کیا ہوگا :-*
 تفسیر صراط الجنان     
{   فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ   : تو   جب ان پر رات کا اندھیرا چھایا۔}   مفسرین اور مؤرخین کا بیان ہے کہ نمرود بن کنعان بڑا جابر   بادشاہ تھا، سب سے پہلے اُسی نے تاج سر پر رکھا۔ یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پوجا کرواتا تھا، کاہن اور نجومی بڑی کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اور اس کی روشنی کے سامنے آفتاب   وماہتاب بالکل بے نور ہوگئے۔ اس سے وہ بہت خوف زدہ ہوا اور اس نے کاہنوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی۔ انہوں   نے کہا کہ اس سال تیری سلطنت میں ایک فرزند پیدا ہوگا جو تیرے ملک کے زوال کا باعث ہوگا اور تیرے دین والے اس   کے ہاتھ سے ہلاک ہوں گے۔ یہ خبر سن کر وہ پریشان ہوا اور اُس نے حکم دیا کہ جو بچہ پیدا ہو قتل کر ڈالا جائے اور مرد عورتوں سے علیحدہ رہیں اور اس کی نگہبانی کے لئے ایک محکمہ قائم کردیا گیا مگر   تقدیرات ِالٰہیہ کو کون ٹال سکتا ہے ۔ حضرت ابراہیم   عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی والدہ ماجدہ حاملہ ہوئیں اور کاہنوں نے نمرود کو اس کی بھی خبر دی کہ وہ بچہ حمل میں آگیا لیکن چونکہ حضرت   کی والدہ صاحبہ کی عمر کافی کم تھی ان کا حمل کسی طرح پہچانا ہی نہ گیا۔ جب حضرت ابراہیم   عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کی ولادت کا وقت قریب آیا تو آپ کی والدہ اس تہ خانے میں چلی گئیں جو آپ کے والد نے شہر سے دور کھود کر تیار کیا تھا، وہاں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کی ولادت ہوئی اور وہیں آپ رہے۔ پتھروں سے اس تہ خانہ کا دروازہ بند کردیا جاتا تھا  ، روزانہ والدہ   صاحبہ دودھ پلا آتی تھیں اور جب وہاں پہنچتی تھیں تو دیکھتی تھیں کہ آپ     عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   اپنی انگلی کا کنارہ چوس رہے ہیں   اور اس سے دودھ برآمد ہوتا ہے۔ آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   بہت جلد بڑھتے تھے۔ اس میں اختلاف ہے کہ آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام    تہ خانہ میں کتنا عرصہ رہے، بعض کہتے ہیں سات برس اور بعض نے کہا کہ تیرہ برس اور بعض نے کہا کہ سترہ برس رہے۔   *(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۷۶  ، ۲/۲۹ -  ۳۰)*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے