رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا علمِ کلی ثابت ہوا کیونکہ سارے علوم لوحِ محفوظ یا قرآن میں ہیں حضور ﷺ پر صرف الفاظ نہیں اسرار بھی نازل ہوتے اللہ‎ تعالیٰ نے کافروں کو بہرے اور گونگے نہ ہوتے ہو ے بھی کہا ایسے ہی کافروں کو مردہ بھی کہا مردے نہیں سننتے آج کے بد مذہب والے بھی بہرے اور گونگے ہیں جو آیت کا مفہوم اور اس کی حکمت نہیں سمجھتے

رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا علمِ کلی ثابت ہوا کیونکہ سارے علوم لوحِ محفوظ یا قرآن میں ہیں حضور ﷺ پر صرف الفاظ نہیں اسرار بھی نازل ہوتے اللہ‎ تعالیٰ نے کافروں کو بہرے اور گونگے نہ ہوتے ہو ے بھی کہا ایسے ہی کافروں کو مردہ بھی کہا مردے نہیں سننتے آج کے بد مذہب والے بھی بہرے اور گونگے ہیں جو آیت کا مفہوم اور اس کی حکمت نہیں سمجھتے :-*
  ترجمۂ کنز العرفان     
اور زمین میں چلنے والا کوئی جاندار نہیں ہے اور نہ ہی اپنے پروں کے ساتھ اڑنے والا کوئی پرندہ ہے مگر وہ تمہاری جیسی امتیں ہیں ۔ ہم نے اس کتاب میں کسی شے کی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ پھر یہ اپنے رب کی طرف ہی اٹھائے جائیں گے۔اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ، اندھیروں میں ( ہیں ۔) اللہ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے راستہ پر ڈال دے۔ *(سورۃ الانعام آیت نمبر 38/39)*
{ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ   :ہم نے اس کتاب میں کسی شے کی کمی نہیں چھوڑی۔}  یعنی جملہ علوم اور تمام ’’  مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ  ‘‘ کا اس میں بیان ہے اور جمیع اشیاء کا علم اس میں ہے ۔اس کتاب سے یہ قرآنِ کریم مراد ہے یا لوحِ محفوظ۔  *(جمل، الانعام، تحت الآیۃ: ۳۸، ۲/  ۳۴۵)* 
   تفسیر صراط الجنان       
{ وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا : اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔}  ارشاد فرمایا کہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ بہرے اور گونگے ہیں کیونکہ حق ماننا اور حق بولنا انہیں مُیَسَّر نہیں اور وہ  جہالت، حیرت اور کفر کے اندھیروں میں پڑے ہوئے ہیں۔  اللہ  عَزَّوَجَلَّ جسے چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھے راستہ پر ڈال دے اور اسلام کی توفیق عطا فرمائے۔ 
 *قیامت کے دن جانوروں کا بھی حساب ہو گا:* 
اس سے معلوم ہو اکہ قیامت کے دن انسانوں اور جنوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کا بھی حساب ہو گا۔ بعض احادیث میں بھی یہ بات بیان کی گئی ہے ، چنانچہ  حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے ،نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: ’’  قیامت کے دن تم لوگ ضرور حق داروں کو ان کے حقوق سپرد کرو گے حتّٰی کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ *(مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، الحدیث: ۶۰(۲۵۸۲))* 
حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :’’قیامت کے دن زمین کھچ کر چمڑے کی طرح دراز  ہو جائے گی اور اللہ  تعالیٰ انسانوں ، جنوں ، چوپایوں اور وحشی جانوروں الغرض تمام مخلوق کو جمع فرمائے گا، اس دن  اللہ تعالیٰ    جانوروں کے درمیان بھی قصاص رکھے گا یہاں تک کہ بے سینگ والی بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا، پھر  انہیں کہا جائے گا کہ تم سب مٹی ہو جاؤ۔ اس وقت کافر یہ تمنا کرے گا کہ کاش میں بھی مٹی ہو جاتا۔  *( مستدرک، کتاب الاہوال، جعل اللہ القصاص بین الدواب، ۵ /۷۹۴، الحدیث: ۸۷۵۶)*

Comments