فرقہ بندی کا سبب اور حق پر کون؟* *جو سب سے بڑھی جماعت ہیں وہی حق جماعت ہیں باطل فرقوں کا ردد کرنا فرقہ پرستی نہیں امت میں اتحاد چاہتے ہو تو باطل فرقوں کو چھوڈ کر اہلے سنّت جماعت میں شامل ہوجاؤں وہی سب سے بڑھی جماعت

فرقہ بندی کا سبب اور حق پر کون؟*
 *جو سب سے بڑھی جماعت ہیں وہی حق جماعت ہیں باطل فرقوں کا ردد کرنا فرقہ پرستی نہیں امت میں اتحاد چاہتے ہو تو باطل فرقوں کو چھوڈ کر اہلے سنّت جماعت میں شامل ہوجاؤں وہی سب سے بڑھی جماعت :-*
   ترجمۂ کنز العرفان     
بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور خود مختلف گروہ بن گئے اے حبیب! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔ ان کا معاملہ صرف اللہ کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ *(سورۃ انعام آیت نمبر 159)*
 حضرت  عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں ’’اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم دیا ہے اور انہیں اختلاف اور فرقہ بندی سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ ان سے پہلے لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین میں جھگڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ *(تفسیر ابن ابی حاتم، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۵ / ۱۴۳۰)* 
خلاصہ یہ کہ اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نظریے پر متفق ہونے، دین میں فرقہ بندی اور بِدعات اختیار کرنے سے  بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ فی زمانہ بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اسلام میں فرقہ بندی کیوں ہے اور ان میں حق پر کون  ہے؟ اس سلسلے میں چند باتیں ذہن نشین کر لیجئے،   اِنْ شَآءَ اللہ ! آپ پر خود ہی واضح ہو جائے گا کہ فرقہ بندی کا اصل سبب کیا ہے اور مختلف فرقوں میں سے حق پر کونسا فرقہ ہے   
 *پہلی بات* : یہ امت کبھی گمراہی پر جمع نہ ہو گی۔ حضرت انس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا:  ’’ اِنَّ اُمَّتِیْ لَا تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ فَاِذَارَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُمْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمِ   میری امت گمراہی پر جمع نہ ہوگی، جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔  *(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم، ۴ / ۳۲۷، الحدیث:۳۹۵۰)* 
 *دوسری بات* : حضور انور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے صدیوں پہلے ہی اس اختلاف اور فرقہ بندی کے بارے میں پیشین گوئی فرما دی تھی، چنانچہ حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    نے ارشاد فرمایا: وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ  بِیَدِہٖ لَتَفْتَرِقَنَّ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَا ثٍ وَسَبْعِیْنَ       فِرْقَۃً، وَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ وَثِنْتَانِ  وَسَبْعُوْنَ فِی النَّارِ، قِیْلَ  یَا رَسُوْلَ اللہِ مَنْ ہُمْ قَالَ اَلْجَمَاعَۃُ  اس ذات کی قسم !جس کے دستِ قدرت میں محمد  ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی جان ہے، میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی (ان میں سے) ایک جنت میں جائے گا اور 72 جہنم میں جائیں گے۔ عرض کی گئی:    یا       رسولَ اللہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )  وہ جنتی کون ہوں گے ؟ارشاد فرمایا :وہ جماعت ہے۔
*(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب افتراق الامم،۴ /۳۵۲، الحدیث: ۳۹۹۲)* 
واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اختلافِ امت کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ عین حق اور صواب پر مبنی تھا۔ 
 *تیسری بات* :یہ بات انتہائی قابلِ غور ہے کہ اس دورِ اختلاف میں حق پسند اور نجات پانے والے گروہ کا پتا کیسے چلے گا، کس طرح معلوم ہو گا کہ موجودہ فرقوں میں حق پر کون ہے۔ اس کی رہنمائی بھی حدیث پاک میں کر دی گئی ہے کہ  اِذَا رَاَیْتُمْ اِخْتِلَافًا فَعَلَیْکُ مْ بِالسَّوَادِ الْاَعْظَمْ  جب تم اختلاف دیکھو تو سب سے بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔  *(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السواد الاعظم،۴/ ۳۲۷ ، الحدیث:۳۹۵)* 
 اس روایت میں اختلاف سے مراد اصولی اختلاف ہیں جس میں ’’کفر و ایمان‘‘ اور ’’ہدایت وضلالت ‘‘ کا فرق پایا جائے، فروعی اختلاف ہر گز مراد نہیں کیونکہ وہ تو رحمت ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے       ’’  اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ میری امت کا  (فروعی) اختلاف رحمت ہے۔  *(کنز العمال، کتاب العلم، قسم الاقوال، ۵ / ۵۹  ، الحدیث:۲۸۶۸۲، الجزء العاشر )*
اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر موجودہ اسلامی فرقوں میں اس بڑے فرقے کو تلاش کیجئے جو باہم اصولوں میں مختلف  نہ ہوں اور جس قدر اسلامی فرقے اس کے ساتھ اصولی اختلاف رکھتے ہوں وہ ان سب میں بڑا ہو۔  آپ کو اہلسنّت و جماعت    کے سوا کوئی نہ ملے گا جس میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، قادری، چشتی، سہروردی، نقشبندی، اشعری ، ماتریدی سب شامل ہیں یہ سب اہلسنّت ہیں اور ان کے مابین کوئی ایسا اصولی اختلاف نہیں جس میں کفر و ایمان یا ہدایت و ضَلال کا فرق پایا جائے لہٰذا اس پر فتن دور میں حدیثِ مذکور کی رُو سے سوادِ اعظم اہلسنّت و جماعت ہے اور اس کا حق پر ہونا بھی ثابت ہوا۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے