اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے جس کو حرام کہا اس کے سوا سب حلال ہی جس پر خاموشی فرمائی وہ بھی حلال ہیں بدمذہب والے اللہ کی حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے جو اللہ پر جھوٹ ہیں ہر چیز میں اصل اباحت ہے: -
اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے جس کو حرام کہا اس کے سوا سب حلال ہی جس پر خاموشی فرمائی وہ بھی حلال ہیں بدمذہب والے اللہ کی حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے جو اللہ پر جھوٹ ہیں ہر چیز میں اصل اباحت ہے: -*
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک وہ لوگ تباہ ہوگئے جواپنی اولاد کوجہالت سے بیوقوفی کرتے ہوئے قتل کرتے ہیں اور اللہ نے جو رزق انہیں عطا فرمایا ہے اسے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے حرام قرار دیتے ہیں ۔ بیشک یہ لوگ گمراہ ہوئے اور یہ ہدایت والے نہیں ہیں ۔ *(سورۃ انعام آیت نمبر 140)*
اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز میں اصل اباحت ہے، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہر چیز ہمارے رزق کے لئے پیدا فرمائی، ان میں سے جسے حرام فرما دیا وہ حرام ہے اور جسے حلال فرمایا یا جس سے سکوت فرمایا وہ حلال ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے: ’’ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا *‘‘(بقرہ: ۲۹)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے بنایا۔
حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس سے خاموشی فرمائی تو وہ اس میں سے ہے جس سے معافی دی۔ *(ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفراء، ۳ / ۲۸۰، الحدیث: ۱۷۳۲)*
حضرت علامہ ملا علی قاری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ ( یعنی جس چیز کی حلت و حرمت سے متعلق قرآن و حدیث میں خاموشی ہو وہ حلال ہے۔) *( مرقاۃ المفاتیح، کتاب الاطعمۃ، الفصل الثانی، ۸ / ۵۷ ، تحت الحدیث: ۴۲۲۸)*
ترجمۂ کنز العرفان
بیشک وہ لوگ تباہ ہوگئے جواپنی اولاد کوجہالت سے بیوقوفی کرتے ہوئے قتل کرتے ہیں اور اللہ نے جو رزق انہیں عطا فرمایا ہے اسے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے حرام قرار دیتے ہیں ۔ بیشک یہ لوگ گمراہ ہوئے اور یہ ہدایت والے نہیں ہیں ۔ *(سورۃ انعام آیت نمبر 140)*
اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز میں اصل اباحت ہے، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہر چیز ہمارے رزق کے لئے پیدا فرمائی، ان میں سے جسے حرام فرما دیا وہ حرام ہے اور جسے حلال فرمایا یا جس سے سکوت فرمایا وہ حلال ہے۔ قرآنِ پاک میں ہے: ’’ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا *‘‘(بقرہ: ۲۹)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے بنایا۔
حضرت سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس سے خاموشی فرمائی تو وہ اس میں سے ہے جس سے معافی دی۔ *(ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفراء، ۳ / ۲۸۰، الحدیث: ۱۷۳۲)*
حضرت علامہ ملا علی قاری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ ( یعنی جس چیز کی حلت و حرمت سے متعلق قرآن و حدیث میں خاموشی ہو وہ حلال ہے۔) *( مرقاۃ المفاتیح، کتاب الاطعمۃ، الفصل الثانی، ۸ / ۵۷ ، تحت الحدیث: ۴۲۲۸)*
Comments
Post a Comment