اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہونے کا حکم سب سے بڑھی نعمت رحمت اللعالمین اللہ‎ تعالیٰ کے سوا جو کچھ ہیں سب کے لئے رحمت جو اپنے لئے رحمت نہ مانے وہ جانور سے بدتر ہیں

اللہ  تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہونے کا حکم سب سے بڑھی نعمت رحمت اللعالمین اللہ‎ تعالیٰ کے سوا جو کچھ ہیں سب کے لئے رحمت جو اپنے لئے رحمت نہ مانے وہ جانور سے بدتر ہیں  :-*
 یاد رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت پر خوش ہونا اگر فخر، تکبر اور شیخی کے طور پر ہو تو برا ہے اور کفار کا طریقہ ہے اور اگر شکر کے طور پر ہو تو بہتر ہے اور صالحین کا طریقہ بلکہ حکمِ الٰہی ہے، جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:   وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ 
 *(والضحی:۱۱)*
 *ترجمہکنزُالعِرفان* :اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ 
اور ارشاد فرماتا ہے:  قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا *(یونس: ۵۸)* 
 *ترجمہکنزُالعِرفان* :تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔   
 *مسلمانوں کے لئے صبر اور شکر ہیں نہ کے فکر اور غرور کفر اور گناہوں کے باوجود دنیوی خوشحالی کا اصلی سبب:-*
 کفر اور گناہوں کے باوجود دنیاوی راحتیں ملنا دراصل اللہ  تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل اور اس کا غضب و عذاب ہے کہ اس سے انسان اور زیادہ غافل ہو کر گناہ پر دلیر ہو جاتا ہے بلکہ کبھی خیال کرتا ہے کہ گناہ اچھی چیز ہے ورنہ مجھے یہ نعمتیں نہ ملتیں اور یہ کفر ہے ۔ 
حضرت عقبہ بن عامر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے، نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا’’جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے گناہوں کے باوجود ان کی پسند کے مطابق عطا فرما رہاہے تو یہ ان کے لئے  صرف  اللہ  تعالیٰ کی طرف سے اِستِدراج اور ڈھیل ہے ، پھر نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’  فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ   ‘‘ 
 *ترجمہکنزُالعِرفان*   :پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیاجو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا پس اب وہ مایوس ہیں۔‘‘ *(مسند امام احمد، مسند الشامیین، حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی، ۶/ ۱۲۲، الحدیث: ۱۷۳۱۳)* 
حضرت حسن بصری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’خدا کی قسم ! جس شخص کو  اللہ  تعالیٰ نے دنیا میں وسعت عطا فرمائی اور اسے یہ خوف نہ ہو کہ کہیں اس میں اس کے لئے اللہ  تعالیٰ کی کوئی خفیہ تدبیر نہ ہو تو بے شک اس کا عمل ناقص اور اس کی فکر کمزور ہے اور جس شخص سے اللہ  تعالیٰ نے وسعت روک لی اور اس نے یہ گمان نہ کیا کہ وسعت روکنے میں اس کے لئے کوئی بھلائی ہو گی تو بے شک اس کا عمل ناقص اور اس کی فکر کمزور ہے۔ *(تفسیر قرطبی، الانعام، تحت الآیۃ: ۴۴ ، ۳ / ۲۶۵ ، الجزء السادس۔)* 
اس سے ان نام نہاد دانشوروں کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے جو کافروں کی ترقی دیکھ کر اسلام سے ہی ناراض ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں کی معیشت کا رونا روتے ہوئے انہیں کفار کی اندھی تقلید کادرس دیتے ہیں اور اسلامی شرم و حیا اور تجارت کے شرعی قوانین کو لات مارنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-