دیوبندی کوئی مذہب نہیں جہنمی فرقہ ہیں حضرت ابراہیم کے باپ حضور ﷺ کے والدین اور صحابہ کو کافر کہنا جایز سمجھتے ہیں مگر کافروں کو کافر کہنے سے پرہیز کرتے ہیں آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا چچا تھا یا باپ:-*

دیوبندی کوئی مذہب نہیں جہنمی فرقہ ہیں حضرت ابراہیم کے باپ حضور ﷺ کے والدین اور صحابہ کو کافر کہنا جایز سمجھتے ہیں  مگر کافروں کو کافر کہنے سے پرہیز کرتے ہیں آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا چچا تھا یا باپ:-*
    ترجمۂ کنز العرفان     
اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے فرمایا، کیا تم بتوں کو (اپنا) معبود بناتے ہو۔ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں ۔
 تفسیر صراط الجنان       
{  وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ  : اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ سے فرمایا۔}   یہ آیت مشرکینِ عرب پر حجت ہے جو حضرت ابراہیم       عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو قابلِ تعظیم جانتے تھے اور اُن کی فضیلت کے معترف تھے انہیں دکھایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  بت پرستی کو کتنا بڑا عیب اور گمراہی بتاتے ہیں اور اپنے چچا آزر سے فرما رہے ہیں کہ کیا تم بتوں کو  اپنا معبود بناتے ہو؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔ تو جب حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   بتوں سے اس قدر نفرت کرتے ہیں تو اے اہلِ مکہ! اگر تم ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کومانتے ہو تو تم بھی بت پرستی چھوڑ دو۔         
یہاں آیت میں آزر کیلئے ’’   *اَبْ*   ‘‘ کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا ایک معنی ہے ’’ *باپ* ‘‘ اور دوسرا معنی ہے ’’ *چچا* ‘‘  اور یہاں اس سے مراد چچا ہے، جیسا کہ قاموس میں ہے : آزر حضرت ابراہیم  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چچا کا نام ہے۔ *(القاموس المحیط، باب الراء، فصل الہمزۃ، ۱ / ۴۹۱، تحت اللفظ: الازر )*   
 اور امام جلال الدین سیوطی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ’’   مَسَالِکُ الْحُنَفَاء  ‘‘ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ نیزچچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں معمول ہے بالخصوص عرب میں اور قرآن و حدیث میں بھی چچا کو باپ کہنے کی مثالیں موجود ہیں ، جیساکہ قرآنِ کریم میں ہے ’’  نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ‘‘ *(بقرہ:۱۳۳)* 
 *ترجمہکنزُالعِرفان*   :ہم آپ کے معبود اور آپ کے آباؤ و اجداد ابراہیم  اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے۔ 
اس میں حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   کو حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے آباء میں ذکر کیا گیا ہے حالانکہ آپ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت یعقوب  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چچا ہیں۔ اور حدیث شریف میں ہے، نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’  رُدُّوْاعَلَیَّ اَبِیْ   ‘‘ میرے باپ کو میرے پاس لوٹا دو۔ *(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المغازی، حدیث فتح مکۃ، ۸ /۵۳۰، الحدیث:۳ )*  یہاں ’’   اَبِی   ْ‘‘ سے حضرت عباس    رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مراد ہیں جو کہ حضورِا قدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے چچا ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے