ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں غیر اللہ سے مدد مانگنے میں شرک نظر آتا ہی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے اپنے مولوی کی تعارف میں شرک نظر کیوں نہیں آتا فرق صرف ذاتی اور عطائی کا منافقوں اصول سب کے لئے ایک ہوگا یا تو عطائی کو مانوں یا ہر عطائی آیت کا انکار کروں شرک کی تعریف
*ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں غیر اللہ سے مدد مانگنے میں شرک نظر آتا ہی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے اپنے مولوی کی تعارف میں شرک نظر کیوں نہیں آتا فرق صرف ذاتی اور عطائی کا منافقوں اصول سب کے لئے ایک ہوگا یا تو عطائی کو مانوں یا ہر عطائی آیت کا انکار کروں شرک کی تعریف :*
ترجمۂ کنز العرفان
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور اندھیروں اور نور کو پیدا کیا پھر (بھی) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں *۔(سورۃ الانعام آیت نمبر 1)*
شرک کی تعریف یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی غیر کو واجبُ الوجود یا لائقِ عبادت سمجھاجائے ۔ حضرت علامہ سعدُ الدین تفتازانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرک کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :’’
*اَ لْاِشْتِرَا کُ ھُوَاِثْبَاتُ الشَّرِیْکِ فِی الْاُلُوْہِیَّۃِبِمَعْنٰی وُجُوْبِ الْوُجُوْدِکَمَا لِلْمَجُوْسِ اَوْ بِمَعْنٰی اِسْتِحْقَاقِ الْعِبَادَۃِ کَمَا لِعَبَدَۃِ الْاَصْنَامِ* ‘‘ یعنی ’’شرک یہ ہے کہ خدا کی اُلوہیت (یعنی معبود ہونے) میں کسی کو شریک کرنا اس طرح کہ کسی کو واجبُ الوجود مان لینا جیسا کہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے یا خدا کے سوا کسی کو عبادت کا حقدار مان لینا جیسا کہ بت پرستوں کا خیا ل ہے۔ *(شرح عقائد نسفیہ، مبحث الافعال کلہا بخلق اللہ تعالی والدلیل علیہا، ص ۷۸)*
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ آدمی حقیقۃً کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیرِخدا کو معبود یا مستقل بالذّات و واجبُ الوجود نہ جانے ۔ *(فتاوی رضویہ، ۲۱ / ۱۳۱)*
صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا یعنی الوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بد تر قسم ہے اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں۔ *(بہار شریعت، حصہ اول، ایمان وکفر کا بیان، ۱ / ۱۸۳)*
*برا کام کر کے اللہ تعالیٰ کی مشیت کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے:-*
یہاں ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ اگرچہ ہر اچھی بری چیز کو پیدا فرمانے والا رب تعالیٰ ہے لیکن برا کام کر کے تقدیر کی طرف نسبت کرنا اور مشیتِ الٰہی کے حوالے کرنا بری بات ہے، بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کہے اور جو برائی سرزد ہو اسے اپنے نفس کی شامت تصور کرے۔
نیز اس آیت میں ظُلُمات یعنی تاریکیوں کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت زیادہ ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام ہے۔
ترجمۂ کنز العرفان
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور اندھیروں اور نور کو پیدا کیا پھر (بھی) کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں *۔(سورۃ الانعام آیت نمبر 1)*
شرک کی تعریف یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی غیر کو واجبُ الوجود یا لائقِ عبادت سمجھاجائے ۔ حضرت علامہ سعدُ الدین تفتازانی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرک کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :’’
*اَ لْاِشْتِرَا کُ ھُوَاِثْبَاتُ الشَّرِیْکِ فِی الْاُلُوْہِیَّۃِبِمَعْنٰی وُجُوْبِ الْوُجُوْدِکَمَا لِلْمَجُوْسِ اَوْ بِمَعْنٰی اِسْتِحْقَاقِ الْعِبَادَۃِ کَمَا لِعَبَدَۃِ الْاَصْنَامِ* ‘‘ یعنی ’’شرک یہ ہے کہ خدا کی اُلوہیت (یعنی معبود ہونے) میں کسی کو شریک کرنا اس طرح کہ کسی کو واجبُ الوجود مان لینا جیسا کہ مجوسیوں کا عقیدہ ہے یا خدا کے سوا کسی کو عبادت کا حقدار مان لینا جیسا کہ بت پرستوں کا خیا ل ہے۔ *(شرح عقائد نسفیہ، مبحث الافعال کلہا بخلق اللہ تعالی والدلیل علیہا، ص ۷۸)*
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ آدمی حقیقۃً کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیرِخدا کو معبود یا مستقل بالذّات و واجبُ الوجود نہ جانے ۔ *(فتاوی رضویہ، ۲۱ / ۱۳۱)*
صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’شرک کے معنی غیرِ خدا کو واجبُ الوجود یا مستحقِ عبادت جاننا یعنی الوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بد تر قسم ہے اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں۔ *(بہار شریعت، حصہ اول، ایمان وکفر کا بیان، ۱ / ۱۸۳)*
*برا کام کر کے اللہ تعالیٰ کی مشیت کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے:-*
یہاں ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ اگرچہ ہر اچھی بری چیز کو پیدا فرمانے والا رب تعالیٰ ہے لیکن برا کام کر کے تقدیر کی طرف نسبت کرنا اور مشیتِ الٰہی کے حوالے کرنا بری بات ہے، بلکہ حکم یہ ہے کہ جو اچھا کام کرے اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کہے اور جو برائی سرزد ہو اسے اپنے نفس کی شامت تصور کرے۔
نیز اس آیت میں ظُلُمات یعنی تاریکیوں کو جمع اور نور کو واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت زیادہ ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام ہے۔
Comments
Post a Comment