بد مذہب والوں کا عقیدہ اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کسی کی موت کا علم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے علمِ غیب کی دلیل: -*

بد مذہب والوں کا عقیدہ اللہ‎ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کسی کی موت کا علم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے علمِ غیب کی دلیل: -*
  ترجمۂ کنز العرفان           
۔ (قوم نے) کہا: ہمیں آپ کے تشریف لانے سے پہلے بھی اور تشریف آوری کے بعد بھی ستایا گیا ہے۔ (موسیٰ نے) فرمایا: عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گا پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ *(سورۃ اعراف آیت نمبر 129)*
 تفسیر صراط الجنان             
{ قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا : بولے ہم ستائے گئے ۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قوم نے فرعون کی دھمکی سے خوفزدہ ہو کر دوسری مرتبہ حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  سے عرض کی کہ’’ ہمیں آپ کے تشریف لانے سے پہلے بھی ستایا گیا کہ فرعون اور فرعونیوں نے طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا کر رکھا تھا اور لڑکوں کو بہت زیادہ قتل کیا تھا  اور آپ کے تشریف لانے کے بعد اب پھر ستایا جائے گا کہ اب وہ دوبارہ ہماری اولاد کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو ہماری مدد کب ہوگی اور یہ مصیبتیں کب دور کی جائیں گی۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   نے ان سے فرمایا: عنقریب تمہارا رب  عَزَّوَجَلَّ  تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گاپھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو اور کس طرح شکر ِنعمت بجالاتے ہو۔         
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ  تعالیٰ نے حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غیب کا علم دیا تھا کہ آئندہ پیش آنے والے واقعات بلاکم و کاست بیان فرما دئیے اور جیسا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ہلاک کر دیاگیا اور بنی اسرائیل ملکِ مصر کے مالک ہوئے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے